.

کیا پوتن انٹیلی جنس ایجنٹ امریکا کے حوالے کریں گے؟

ایڈورڈ سنوڈن سنہ 2013ء سے روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت ماسکو میں سیاسی پناہ لینے والے سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو امریکا کے حوالے کرنے پر غور کررہی ہے۔ ذرائع کےمطابق روسی صدر ولادی میرپوتن امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو سنوڈن کی حوالگی کا ’تحفہ‘ دینا چاہتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ جاسوسوں کو خائن قرار دے کرانہیں پھانسی پر لٹکانے کا حق دار قرار دے چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک سینیر امریکی عہدیدار نے روس کی حساس انٹیلی جنس اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن کی امریکا کو حوالے کرنے کی کوشش پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوستی کا نتیجہ ہوگی۔

دوسری جانب سنوڈن کے وکیل وبن ویزنر کا کہنا ہے کہ اُنہیں اپنے موکل کی امریکا کو حوالگی کی کسی اسکیم کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنوڈن کے دفاعی پینل میں شامل کسی وکیل کو ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا اور اس لیے ان کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں۔

دونوں صورتوں میں روس کا فائدہ

امریکی قومی سلامتی کےسابق معاون مشیر خوارن زاراتی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو سنوڈن کے حوالے سے پوتن کی پیشکش کواحتیاط سے قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے لیے دونوں صورتوں میں فائدہ ہے۔ ماسکو نے سنوڈن سے جو انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنا تھیں وہ اس نے اس سے لے لی ہیں۔ اب وہ سنوڈن کو امریکا کے خلاف انٹرنیٹ مانیٹرنگ اور نگرانی کے الزم میں ایک پتے کے طورپر استعمال کرسکتا ہے۔

زاراتی کا مزید کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ امریکا کی نئی انتظامیہ نے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا اشارہ دیا ہے۔ بہتر تعلقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسائل کو بھی خوش اسلوبی سے حل ہونا چاہیے۔ اس میں امریکی انٹیلی کی اداروں کی انٹرنیٹ کی جاسوسی، شہری آزادیوں اور دیگر مسائل شامل ہیں۔

امریکی خیر مقدم

روس کی جانب سے سنوڈن کی امریکا کو حوالگی کی اطلاعات پر وائیٹ ہاؤس کی طرف سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔’این بی سی‘ نیوز کے مطابق اگر ماسکو ایڈورڈ سنوڈن کو رہا کرتا ہے تو واشنگٹن اس کا خیر مقدم کرے گا۔ اسنوڈن پر جاسوسی کا الزام ہے۔ یہ امکان ہے کہ اس پرامریکا میں مقدمہ چلا کر اسے کئی سال تک جیل میں ڈالا جاسکے۔

خیال رہے کہ سنوڈن امریکی قومی سلامتی کے ادارے میں ریاست ہوائی میں کام کرتا رہا ہے۔ سنہ 2013ء کو جب امریکی خفیہ دستاویزات لیک ہونے کے بعد صحافیوں کے ہاتھ لگیں تو خفیہ راز لیک کرنے کا الزام سنوڈن پر عاید کیا گیا تھا۔ ان دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے عام شہریوں کی انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرتے ہیں۔

سنوڈن فرار ہوکر روس جاپہنچا جہاں اس نے سیاسی پناہ حاصل کرلی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہےکہ سنوڈن کا روس میں قیام 2020ء تک ان کے لیے مفید ہوسکتا ہے جس کے بعد وہ روسی شہریت کےحصول کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

ٹرمپ اور بومبیون پھانسی کے پرزور حامی

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انٹیلی جنس کے چیف مائیک بومبیو نے سنوڈن کے اقدام اور روس فرار کی انتہائی سخت لہجے میں مذمت کی ہے۔ گذشتہ جولائی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ’میرے خیال میں سنوڈن بہت بڑا خائن ہے۔ میں اس کے ساتھ بہت سختی سے پیش آؤں گا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر میں صدر ہوتا پوتن سے اسےگرفتار کراتا۔

اکتوبر 2013ء میں ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سنوڈن جاسوس ہے اور اسے لٹکا دینا چاہیے۔ گذشتہ برس انٹیلی جنس چیف مائیک بومبیو نے بھی ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنوڈن پھانسی کا مستحق ہے۔

سنوڈن کا خوف

گذشتہ برس دسمبر میں روس میں پناہ لینے والے امریکی انٹیلی جنس عہدیدار ایڈورڈ سنوڈن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں امریکا کے حوالے کرنے کی کوئی بھی کوشش انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا روس اور ٹرمپ کے درمیان میری حوالگی کی ڈیل ہوسگی اور کیا صدر پوتن مجھے تحفے میں امریکا کے حوالے کریں گے؟۔

کیا مجھے امریکا کے حوالے کیا جائے گا؟۔ کیا وہاں میرا نمائشی ٹرائل ہوگا؟ پھر کیا ہوگا میں نہیں جانتا۔

اس نے مزید کہا کہ میں بالکل کچھ نہیں جانتا۔ کیا مجھے اپنے بارے میں پریشان رہنا چاہیے۔ فی الواقع مجھے دوبارہ امریکا جانا پڑے گا۔ میں یہاں اپنی مرضی سے آیا ہوں اور یہاں پرسکون ہوں۔ میں جانتاہوں کہ میں نےجو فیصلہ کیا وہ میرے لیے بہت مناسب تھا۔

تاہم سنوڈن کےا یک وکیل اناتولی کوچیرینا کا کہنا ہے کہ ان کا موکل واپس امریکا جانا چاہتا ہے اور اسے گرفتاری کا کوئی خوف بھی نہیں۔