انتخابی قانون کا غلط استعمال، امریکی عدالت سے خاتون کو8 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک مقامی عدالت نے میکسیکن نژاد گرین کارڈ کی حامل ایک خاتون کو انتخابی قانون کے غلط استعمال پر 8 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گرین کارڈ کی حامل 37 سالہ روزا ماریا اورٹیگا پر الزام ہے کہ اس نے سنہ 2012ء اور2014ء کے دوران قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے انتخابات میں ایک ووٹر کے طور پر حصہ لیا تھا۔

روزا اورٹیگا بچپن سے امریکا میں مقیم ہیں۔ وہ شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی 13 اور 16 سال کے درمیان ہیں۔

سنہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں اورٹیگا نے ووٹ نہیں ڈالا حالانکہ وہ گذشتہ ایک عشرے سے امریکا کی رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔

ملزمہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ نے جب گرین کارڈ بنوایا تو اس کے سامنے دو آپشن رکھے گئے تھے کہ آپ امریکی شہری کی حیثیت سے رہنا چاہتی ہیں غیر شہری کے طور پررہیں گے۔ مگر اس وقت ان کے سامنے قانونی پیچیدگیوں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اورٹیگا نے گرین کارڈ حاصل کرنے کے بعد یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ امریکا کی شہری ہیں۔ اس نے انتخابی کارڈ میں خود کو ’شہری‘ ظاہر کیا۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو سے تعلق رکھنے والی خاتون کو سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے وکیل نے سزا کو سخت قرار دیتے ہوئے اسے اپیل کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست ٹیکساس کے پراسیکوٹر کین باکسٹن کا کہنا ہے کہ اورٹیگا کے خلاف عدالتی فیصلہ انتخابات میں دھاندلی کا قلع قمع کرنے کا نقطہ آغاز ہے۔

اگرچہ اورٹیگا کو سنہ 2015ء میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنھبالنے کے بعد اس کے کیس نے ایک نئی شکل اختیار کرلی تھی۔ امریکی عدالت کے فیصلے سے عیاں ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ انتخابی قوانین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے سخت ترین اقدامات کے لیے پرعزم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں