میانمار : مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

میانمار میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس امر کی تحقیقات کرے گی کہ آیا پولیس نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ اس سے قبل سرکاری ذمے داران نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں مذکورہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مظالم کے ارتکاب سے متعلق دعوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کے دفتر نے رواں ماہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ میانمار میں سکیورٹی فورسز نے اجتماعی قتل اور عصمت دری کے جرائم کا ارتکاب کیا جو غالب گمان حد تک انسانیت کے خلاف جرائم اور ممکنہ طور پر نسلی تطہیر تک پہنچ چکے ہیں۔

اس سے قبل میانمار راخین صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تمام دعوؤں کا انکار کرتا رہا ہے۔ اس صوبے میں روہینگا مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔

گزشتہ ہفتے فوج نے کہا تھا کہ وہ ایک ٹیم تشکیل دے گی جو سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظالم کے ارتکاب سے متعلق دعوؤں کی تحقیقات کرے گی۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ " انتظامی نوعیت کی تحقیقات" عمل میں لائی جائیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا پولیس فورس نے علاقے کی تطہیر کے عمل کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت کسی بھی نوعیت کے غیر قانونی فعل کا ارتکاب کیا۔

وزارت نے جس پر فوج کا کنٹرول ہے مزید کہا کہ " ہدایات پرعمل نہ کرنے والے افراد" کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔

پولیس کے ایک اعلی ذمے دار نے پیر کے روز غیرملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ " اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بہت سے تفصیلی شہادتیں پیش کی گئی ہیں لہذا ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ دلائل کے ساتھ اس رپورٹ کا جواب دیا جائے"۔ اہل کار کے مطابق " رپورٹ میں میانمار میں پولیس کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے انتہائی سنگین اور خطرناک نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں خواتین کی عصمت دری بھی شامل ہے۔ تاہم جہاں تک ہم جانتے ہیں تو ایسا نہیں ہوا"۔

البتہ پولیس کے ذمے دار نے اس واقعے کا حوالہ ضرور دیا جس میں پانچ پولیس اہل کاروں کو دو ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ منظر عام پر آنے والی ایک وڈیو میں مذکورہ اہل کاروں کو راخین صوبے میں ایک کارروائی کے دوران مسلمانوں کے ساتھ برا برتاؤ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں