.

امریکا:ٹیکس چوروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا قانون نافذ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی نئی حکومت نے ٹیکس نا دھندگان کے خلاف بھی سخت ترین پالیسی اپناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ٹیکس چوروں کے پاسپورٹس منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکومت نے جہاں ایک طرف سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ہے وہیں امریکی شہریوں کےبیرون ملک سفر پربھی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ بین الاقوامی اکنامک مشاورتی فرم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ٹیکس نادہندگان کے خلاف بھی شکنجہ تیار کیا جاسکتا ہے۔

لندن میں قائم ڈویرا گرپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نائگل گرین نے امریکی ٹیکس اتھارٹی کو ملنے والے اضافی اختیارات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان اضافی اختیارات کے بعد امریکی حکام نے ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کیا ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے امریکی شہری کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی شہری ٹیکس ادا نہیں کرتا تو اس کا پاسپورٹ منسوخ کیا جاسکتاہے۔

مسٹر گرین کا کہنا ہےکہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جہاں بیرون ملک سے امریکا کے لیے سفری پابندیوں پر تنقید کا سامنا ہے وہیں اب امریکی شہریوں کو بھی ٹیکسوں کی عدم ادائی پربیرون ملک سفر سے روکا جاسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے پاس ٹیکس جمع کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ نئی ٹیکس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہے۔ ٹیکس حکام کو یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ ٹیکس چوروں کے پاسپورٹ منسوخ کریں۔ پاسپورٹس کی منسوخ کا قانون ’FATCA‘ کانگریس نے سنہ 2015ء میں منظور کیا تھا مگراس قانون پراس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ نئی امریکی انتظامیہ ٹیکسوں کےحوالے سے اس قانون پر سختی سےعمل درآمد کرانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔

اس قانون کے تحت بیرون ملک مقیم ٹیکس نہ ادا کرنے والے امریکیوں اور گرین کارڈ کے حامل افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکی گے۔ اس کے علاوہ امریکا کے اندر رہنےوالے گریڈ کارڈ ہولڈر جو ٹیکس ادا نہیں کرتے کے خلاف بھی ’فاٹکا‘ حرکت میں آئے گا۔

جب سے یہ قانون منظور ہوا ہے تب سے دنیا بھر میں موجود امریکیوں کے ٹیکسوں کی ادائی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بیرون ملک شہریوں کوبار بار ٹیکسوں کی ادائی کے حوالے سے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور ان پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

نائگل گرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک امریکی شہریوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ تجربہ ہوا ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے نتیجے میں ٹیکسوں کی تفصیلات جاری کرنے اور انہیں امریکا ارسال کرنے میں 35 فی صد غلطیاں سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام غلطیاں اس قانون کی پیچیدگی کا نتیجہ ہیں۔