اوباما کے حامیوں اور ٹرمپ کے درمیان معلومات اِفشا کرنے کی جنگ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایسا نظر آتا ہے کہ منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن کے مستعفی ہونے کا معاملہ آسانی سے ٹھنڈا نہیں ہوگا.. امریکی منظر نامے پر اس کے اثرات طول پکڑیں گے بلکہ یہ کئی حیران کن امور کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن میں روسی سفیر کے ساتھ رابطے اور روس پر اوباما انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرنے کے حوالے سے یقین دہانیاں فلن کے رخصت ہونے کا سبب بنیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک روپوش پہلو کہیں "زیادہ بڑے" ہو سکتے ہیں۔

امریکی اخبار "واشنگٹن فری بیکن" نے اپنے دعوے کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے اندر اور باہر متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فِلن کے معاملے میں "اِفشا" امور کے پیچھے درحقیقت امریکی ایف بی آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں میں سابق صدر اوباما کے حامی عناصر کا ہاتھ ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکی انتظامیہ میں اوباما کے معاونین اور ان کی ٹیم کے ضمن میں کام کرنے والے افراد کی جانب سے "کئی ماہ" کی تیاری کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد قومی سلامتی کے لیے ٹرمپ کے ورکنگ گروپ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا اور ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔

جہاں تک ٹرمپ کی سکیورٹی ٹیم کو ناکام بنانے کی کوششوں کے منصوبہ ساز کا تعلق ہے تو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اوبا انتظامیہ کے سابق مشیر بن رہوڈز ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق رہوڈز ایران کے لیے "سپورٹ روم" قائم کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

اوباما نواز عناصر کی مہم کا مقصد فلن کی ساکھ خراب کرنا اور ان کو بے اعتبار ثابت کرنا تھا کیوں کہ فلن ایرانی نیوکلیئر معاہدے کے متعلق اپنے سخت گیر معاندانہ موقف کے حوالے سے معروف ہیں۔

اخبار نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ٹرمپ کے تقرر سے قبل اِفشا ہونے والے کئی امور کا مقصد ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے وہائٹ ہاؤس پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا۔

ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ " بنیادی سوال یہ ہے کہ غیر قانونی طریقے سے یہ تمام معلومات واشنگٹن سے ہی کیوں اِفشا ہوتی ہیں؟ کیا یہ اس وقت بھی ہونا تھا اگر میں شمالی کوریا کے معاملے پر کام کرتا ؟ "

متعدد مبصرین کے مطابق معلومات کے اِفشا ہونے سے متعلق سوال منطقی ہے۔

یاد رہے کہ مائیکل فلن کو اس الزام کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے امریکا میں روسی سفیر سرگئی کیسلیک سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ ماسکو اوباما کی عائد کردہ پابندیوں پر کسی ردعمل کا اظہار نہ کرے اس لیے کہ ٹرمپ ان پابندیوں کو منسوخ کر دیں گے۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے انکشاف کے مطابق امریکی سکیورٹی اداروں میں انسدادِ جاسوسی کی ایجنسی نے 29 دسمبر کو فلن کی روسی سفیر کے ساتھ فون کال کی تحقیقات کیں۔ اسی روز صدر اوباما نے روس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکی سی آئی اے کی تحقیقات اور وزارت انصاف کی جانب سے جاری انتباہات نے فلن کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے سبک دوش ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس طرح وہ امریکا کی تاریخ میں اس منصب پر مختصر ترین عرصے کے لیے فائز رہنے والی شخصیت بن گئے۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ فلن امریکا میں دو بڑی سیاسی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان سیاسی طرف داری کا شکار بھی ہوئے ہیں۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی سربراہ نینسی پلوسی کے مطابق " امریکی عوام کا حق ہے کہ وہ ٹرمپ پر روس کے مالی ، ذاتی اور سیاسی رسوخ کی نوعیت اور ہماری قومی سلامتی سے اس کو جو سروکار ہے اس کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کریں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پر لازم ہے کہ وہ " دوونوں جماعتوں کی ایک خود مختار اور بیرونی کمیٹی کو دعوت دے کہ وہ امریکی انتظامیہ اور امریکی انتخابات پر روس کے رسوخ کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرے"۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ اور ایوان نمائندگان میں اںٹیلی جنس کمیٹی کے اہم ترین ڈیموکریٹک رکن ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا مائیکل فلن ٹرمپ کی جانب سے روسی سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے یا ان کی انتظامیہ کا کوئی بھی فرد فلن کے ماسکو کے ساتھ رابطے پر آمادہ تھا۔ ایڈم نے زور دے کر کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر کے مستعفی ہونے سے " ان کے روس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے سوالات ختم نہیں ہو جائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں