.

ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل ،فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل سے دستبردار ؟

اسرائیل اور فلسطین کو امن کے لیے سمجھوتے کرنا ہوں گے،نیتن یاہو یہودی آباد کاری روک دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے دو ریاستی حل سے متعلق امریکا کے تاریخی موقف سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کی راہ ہموار ہوتی ہے اور وہ دونوں متفق ہوتے ہیں تو وہ دو کے بجائے ایک ریاست کی حمایت کریں گے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لیے کام کریں گے لیکن یہ فریقین پر منحصر ہے کہ وہ کسی سمجھوتے پر متفق ہوں۔

انھوں نے نیتن یاہو کی محبت میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دو ریاستی حل کے بارے میں بین الاقوامی اتفاق رائے کو تیاگ دیا ہے اور کہا کہ ''اگر میں دو ریاست یا ایک ریاست کی جانب دیکھتا ہوں تو میں ایسی ایک ریاست کو پسند کرتا ہوں جس کو دونوں فریق بھی پسند کریں۔ اگر دونوں فریق (اسرائیل اور فلسطینی) ایک ریاست کو پسند کرتے ہیں تو مجھے اس پر بہت خوشی ہوگی۔ میں ایک ریاست کے ساتھ بھی خوش ہوں گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا طرفین کے درمیان امن اور ایک حقیقی عظیم امن معاہدے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ ہم اس پر بڑی دل جمعی سے کام کریں گے لیکن اس مقصد کی غرض سے دونوں فریقوں کو خود ایک سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے براہ راست بات چیت کرنی چاہیے''۔

ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دو ریاستی یا کسی دوسرے حل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے اس پر بے پایاں خوشی ہوگی جس کو وہ (دونوں) پسند کریں گے لیکن فلسطینیوں کو نفرت کا خاتمہ کرنا چاہیے''۔ان کے بہ قول ان کی نصاب میں اسرائیل سے نفرت سکھائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بالآخر طرفین کو کچھ سمجھوتے کرنا ہوں گے۔انھوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے (مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ) یہودی آباد کاری کا سلسلہ روک دے۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ''لیبل'' کے بجائے ''جست'' پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ان سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی امن کے لیے دو پیشگی شرائط ہیں۔اول فلسطینیوں کو صہیونی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے۔دوم کسی بھی امن سمجھوتے کی صورت میں اسرائیل کو دریائے اردن کے تمام مغربی کنارے کا سکیورٹی کنٹرول حاصل ہونا چاہیے''۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان لازوال اور پائیدار دوستی کو سراہا ہے اور ان سے وعدہ کیا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر اسرائیل کی تشویش دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیتن یاہو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں اور انھوں نے اس کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دورے سے ایک مرتبہ پھر ہمارے پیارے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل کو بہت سے سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔ان میں سے ایک ایران کے جوہری ہتھیاروں سے درپیش خطرہ ہے اور میں نے اس کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے جو بدترین معاہدے دیکھے ہیں،ان میں سے ایک ایران ڈیل ہے۔میری انتظامیہ نے پہلے ہی ایران پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ میں ایران کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیار کی تیاری سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کروں گا''۔

یادرہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طویل مذاکرات کے بعد جوہری معاہدہ طے پایا تھا اور اس پر جنوری 2016ء سے عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا۔اس کی شرائط کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے ایک حصے کے خاتمے ، افزودہ یورینیم کو حوالے کرنے اور جوہری تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے سے اتفاق کیا تھا۔اس معاہدے کی مدت دس سے پندرہ سال تک ہے۔نیتن یاہو سمیت اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دوران ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔