.

امریکا کی تاریخ کا امیر ترین متنازع وزیر خزانہ کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نئے وزیر خزانہ اسٹیون منوچن ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے انتظامی امور سنبھالنے کے بعد نہیں بلکہ اس سے کئی سال قبل ہی متنازع شخصیت کے مالک بن چکے تھے۔ امریکی سینیٹ نے چند روز قبل ہی ان کے تقرر کی منظوری دی ہے۔

ریپبلکنز کے 53 ووٹوں کے ساتھ منوچن دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے خزانے کی گدی پر براجمان ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے بعض ریپبلکنز کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے تاہم وہ منوچن کو وزیر خزانہ بننے کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔

منوچن کا متنازع ہونا ڈیموکریٹس کی جانب سے انہیں شدت کے ساتھ مسترد کرنے یا پھر "وال اسٹریٹ" کے ساتھ تعلق رکھنے والے ایک دولت مند کی حیثیت پر موقوف نہیں ہوا۔ یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس حوالے سے تشویش ناک ترین پہلو منوچن کے وہ ممکنہ فیصلے ہیں جن سے تجارتی اور اقتصادی امور میں بین الاقوامی سطح پر تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔

مغربی میڈیا نے امریکا کے نئے وزیر خزانہ کی دولت کا اندازہ 40 سے 50 کروڑ ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔ اس طرح وہ امریکا کی تاریخ کے امیر ترین وزیر خزانہ کا اعزاز رکھتے ہیں۔

منوچن کے سامنے کئی دشوار مشن ہیں جن میں اہم ترین ذمے داری امریکا میں ٹیکس کی کمی سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسی کو لاگو کرنا ہے۔ اس واسطے 2008 میں عالمی مالی بحران کے بعد وضع کیے جانے والے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہو گی۔

اس کے علاوہ منوچن کے سامنے آئندہ ماہ امریکی قرضوں کی حد میں اضافے کا چیلنج اور چین کے ساتھ تنازع سے نمٹنے کی بھی ذمے داری ہے ، بالخصوص جب کہ ٹرمپ انتظامیہ چین پر کرنسی کے ساتھ ہیر پھیر کا الزام عائد کر چکی ہے۔

منوچن محض ایک صاحب ثروت شخص نہیں جو مفادات کے تصادم کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ تاریخ کے دوران بھی متنازع شخصیت رہے ہیں۔

ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق منوچن 100 سے زیادہ فلموں کے لیے مالی رقوم کی فراہمی میں معاونت کر چکے ہیں۔

اسٹیون منوچن 1985 میں YALE یونی ورسٹی سے گریجویشن کے بعد Goldman Sachs بینک سے وابستہ ہو گئے۔ان کے والد بھی 1957 سے اسی بینک کے لیے کام کر رہے تھے۔ 2002 میں منوچن نے 17 برس بعد بینک کو چھوڑا تو وہ ادارے سے کوچ کر جانے والی اہم ترین شخصیات میں سے تھے۔ گولڈمین سیکس کے بعد منوچن نے کئی Hedge Funds بنانے پر کام کیا جن میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو سنبھالا گیا۔

دسمبر 1962 میں پیدا ہونے والے 54 سالہ اسٹیون منوچن اپنے گھرانے کے دوسرے فرزند ہیں۔ یونی ورسٹی کی تعلیم کے دوران 1980 میں وہ سیلمون برادرز بینک میں زیر تربیت بھی رہے۔

2008 میں عالمی مالیاتی بحران کے آغاز کے بعد پراپرٹی مورگیج کے میدان میں عملی تجربے کا پس منظر رکھنے والے منوچن کو ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ منوچن کا دیگر سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر IndyMac بینک خریدنا تھا۔ منوچن اور ان کے شراکت داروں نے 2015 میں بینک کو فروخت کر دیا اور انہیں اس ڈیل سے تقریبا 1.5 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ ڈیموکریٹس منوچن پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں امریکی خاندانوں کے بے گھر ہونے کا سبب بنے جن کی جائیداد بینک کے پاس گروی تھی۔ منوچن اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

پراپرٹی مورگیج کے معاملے کے ساتھ اسٹیون منوچن کے گہرے تعلق نے کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس اور مالی خدمات کی کمیٹی میں ڈیموکریٹک سربراہ میکسین ووٹرز کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ منوچن "پراپرٹی مورگیج کے بادشاہ ہیں!".