.

سعودی عرب : داعش کے چار سیلوں کا خاتمہ ، 18 مشتبہ افراد گرفتار

گرفتار کیے گئے افراد میں 15 سعودی شہری ہیں اور تین کا تعلق یمن اور سودان سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے مملکت میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق اور شام (داعش) کے چار سیلوں کا خاتمہ کردیا ہے اور ان سے وابستہ اٹھارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ''گرفتار کیے گئے افراد میں پندرہ سعودی شہری ہیں جبکہ تین کا تعلق سودان اور یمن سے ہے''۔

وزارت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں داعش کے سیل مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ،الریاض اور القصیم کے علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔مشتبہ افراد کے قبضے سے قریباً بیس لاکھ ریال کی نقدی بھی پکڑی گئی ہے۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کے نام یہ ہیں۔ان میں نمبر ایک سے پندرہ تک سعودی شہری ہیں:
1۔ ابراہيم صالح سعيد الزہرانی
2۔ خالد عبدالرحمن محمد شراحيلی
3۔ راجی عبده علی حسن
4۔ سعيد صالح سعيد الزہرانی .
5۔ سليمان إبراہيم عبدالرحمن الفوزان-
6۔صالح علي عبدالرحمن الشلاش-
7۔عاطف صواب ظافر الشهری –
8۔عبدالعزيز محمد عبدالعزيز السويد-
9۔عبدالله إبراہيم سليمان العضيبی-
10۔ عبدالله حمود عبدالله العضيبی-
11۔عبدالله محمد الحميدی المطيری
12۔ عبدالملك حمد عبدالله الفهيد-
13۔محمد حمد سليمان الفهيد-
14۔ معجل إبراهيم عبدالرحمن الفوزان ۔
15۔ مهند حمد صلاح الزيادی العتيبی
16۔ أيمن عمر أحمد مقبل-يمنی شہری
17۔ خالد أحمد محمد باجعفر-يمنی شہری
18۔ مازن الأمين مختار محمد- سودانی شہری

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا ہے کہ '' گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں سے بعض دارالحکومت الریاض کے علاقے الیاسمین میں داعش کے سیل کو مواد مہیا کرنے میں ملوّث تھے اور بعض کا ساحلی شہر جدہ حرازات میں خود کو دھماکوں سے اڑانے والے دہشت گردوں سے تعلق تھا''۔ان دونوں سیلوں کا گذشتہ ماہ میں خاتمہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتوں کے دوران میں کریک ڈاؤن کارروائیوں میں سولہ انتہا پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔ان میں تین سعودی اور باقی تیرہ پاکستانی شہری تھے۔الحرازات میں واقع ایک ریسٹ ہاؤس میں خود کو دھماکوں سے اڑانے والے دونوں بمباروں کی شناخت غازی حسین السروانی اور نادی مرزوق المضیانی کے نام سے کی گئی تھی اور وہ دونوں سعودی شہری تھے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیل کے مطابق السروانی انتہائی مطلوب افراد میں سے ایک تھا۔اس کا گذشتہ تین سال کے دوران میں سعودی عرب میں دہشت گردی کے مختلف واقعات سے کسی نہ کسی حوالے سے تعلق رہا تھا اور دہشت گرد عناصر سے بھی اس کا تعلق تھا۔

دونوں دہشت گرد سعودی عرب کے جنوبی علاقے ابھا میں خصوصی فورسز کی مسجد میں بم دھماکے ، نجران میں المشہد مسجد پر بم حملے اور دہشت گردی کے دوسرے واقعات میں ملوث تھے۔ انھوں نے کرنل کتاب ماجد الحمادی کے قتل کے واقعے کے ماسٹر مائنڈ عقبہ العتیبی کے ساتھ بھی تعاون کیا تھا۔