.

خامنہ ای ایرانی سرمایہ کاری امریکا منتقل کرنے پر کیسے آمادہ ہوئے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اصلاح پسند ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نیوکلیئر معاہدے میں شامل ایک خفیہ دستاویز کا متن اس امر پر مشتمل ہے کہ ایرانی نظام سے تعلق رکھنے والے افراد کو امریکا میں قیام کے لیے 2800 گرین کارڈ جاری کر کے ایرانی سرمایہ کاری کو امریکا منتقل کیا جائے گا.. اس کے علاوہ بیورلی ہِلز کی تعمیر کی جائے گی۔

اصلاح پسندوں کی ویب سائٹ " آمد نیوز" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ گرین کارڈ سابق وزیر خارجہ جان کیری کے براہ راست حکم جاری کیے گئے۔ گرین کارڈ حاصل کرنے والوں میں ایرانی نظام کے سینئر ذمے داران سے مربوط افراد اور پاسداران انقلاب کے اداروں سے تعلق رکھنے والے وہ افراد شامل ہیں جن کے پاس ایرانی ، عراقی اور شامی پاسپورت تھے اور وہ امریکی سرزمین پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

ویب سائٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 ملکوں کے پاسپورٹ رکھنے والوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روک دینے کے احکامات جاری کیے گئے جن میں ایران ، عراق اور شام بھی شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں اوباما حکومت اور ایرانی حکومت کے ذمے داران نے ٹرمپ کے فیصلے کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی شمار کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی سرمایہ کاری کی رقوم کو برآمد نہیں کریں گے بلکہ غالب گمان ہے کہ امریکا انہیں منجمد کر دے گا۔ بالخصوص جب کہ ان رقوم کا بڑا حصہ امریکا میںNIAC کے نام سے معروف ایرانی لابی کے ہاتھوں میں ہے جس نے ایرانیوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے حوالے سے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔

اس سے قبل ایرانی ذمے داران نے بین الاقوامی پابندیوں کے تحت امریکا میں منجمد ایرانی رقوم کے حجم کے حوالے سے متضاد اعداد و شمار پیش کیے تھے جن کے مطابق یہ رقم 29 ارب سے 120 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ ان ذمے داران کا کہنا ہے کہ اس رقم کی واپسی کا واحد راستہ نیوکلیئر معاہدہ ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان کئی خفیہ خطوط کا تبادلہ ہوا تھا جن منشا دو طرفہ اور علاقائی مفاہمت تھا۔ اس خفیہ مراسلت کا نتیجہ جولائی 2015 میں نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کی صورت میں سامنے جس کی ایک خفیہ جانب میں شامل متعدد امور کا ابھی تک انکشاف نہیں ہوا ہے۔

اس سلسلے میں اِفشا ہونے والی بعض معلومات کے مطابق اوباما نے خامنہ ای کو بھیجے گئے ایک خط میں علاقائی معاملات اور خطے میں رسوخ کی تقسیم سے متعلق امور میں ایران کے امریکا کے ساتھ تعاون کی شرط پر یہ عہد کیا تھا کہ تہران میں نظام کے سقوط کا منصوبہ پیش نہیں کیا جائے گا۔ امریکا کی یہ شرط خامنہ ای اور ان کے نظام کی جانب سے امریکا دشمنی پر مبنی اعلانیہ نعروں کے متضاد ہے۔