.

القاعدہ کے میزبان ممالک داعش کو بھی پناہ دے سکتے ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل منصور الترکی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ تنظیم کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جن ممالک نے اس کی قیادت اور ارکان کو پناہ دی وہ اب اتحادی افواج کی کاری ضربوں کے نتیجے میں عراق اور شام سے فرار اختیار کرنے والے داعش کے ارکان کو بھی پناہ دے سکتے ہیں۔

منصور الترکی کے نزدیک عراق اور شام میں داعش پر کاری ضربیں اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے ارکان کی بھرتی اور اپنے افکار و نظریات پھیلانے سے نہیں روک سکیں گی۔ ان دونوں ممالک میں تنظیم پر قابو پانے کے بعد بھی اس کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ان عناصر کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے بعض ایسے ممالک ہیں جنہوں نے القاعدہ کی قیادت کو محفوظ پناہ دی لہذا داعش کے معاملے میں بھی اس منظر نامے کے دہرائے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ایران ماضی میں القاعدہ تنظیم کے نمایاں اور اہم ترین رہ نماؤں کی میزبانی کر چکا ہے۔ اس حوالے سے وقت کے ساتھ نت نئے انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے امریکی افواج کے ہاتھ لگنے والے خطوط سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران میں اسامہ کی بیویوں اور بچوں کے علاوہ تنظیم کے دیگر اہم رہ نما بھی موجود تھے۔ ان میں یمن میں القاعدہ تنظیم کا اہم ترین کمانڈر ناصر الوحیشی، القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا دست راس سیف العدل اور یاسین السوری شامل ہے جس کے سر کی قیمت امریکا نے 1 کروڑ ڈالر رکھی تھی۔

القاعدہ نیٹ ورک کے ضمن میں ایران میں پناہ حاصل کرنے والوں میں ابو مصعب الزرقاوی، القاعدہ کی شرعی امور کی کمیٹی کا ذمے دار ابو حفص الموریتانوی، 11 ستمبر کے حملوں کا کوآرڈی نیٹر رمزی بن شیبہ، القاعدہ کا سرکاری ترجمان ابو غیث سلیمان، تنظیم کے عبد الله عزام بریگیڈز کا نگراں صالح القرضاوی، ایران میں بن لادن کے اہل خانہ کا نگراں عطيہ عبدالرحمن اللیبی اور دیگر کئی رہ نما شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے کئی برس قبل خبردار کر دیا گیا تھا کہ متعدد مغربی اور عرب ممالک میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افراد کی بھرتی کے واسطے سوشل میڈیا کو استعمال میں لانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے تاہم عالمی برادری نے اس کو انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

منصور الترکی نے اس جانب اشارہ کیا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے مالکانہ حقوق رکھنے والی کمپنیوں نے کچھ عرصہ قبل ایسے اقدامات کیے جن کے ذریعے داعش کی طرف سے ان سوشل میڈیا ویب سائٹوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد کارروائیوں کے واسطے بھرتیوں پر روک لگائی جا سکے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ " بلا شبہ داعش سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی اور اس نے بھرتیوں، مالی رقوم کی فراہمی اور کارروائیوں کے واسطے کسی بھی دوسرے ذریعے کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ انحصار کیا۔"