.

ایران: باسیج ملیشیا کے 18 ہزار ارکان انٹرنیٹ کی نگرانی پر مامور

سوشل میڈیا پر ایرانی رجیم مخالف عناصر پر کڑی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام عوامی موبلائیزیشن ملیشیا ’باسیج‘ کے 18 ہزار ارکان کو ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ پر مامور کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ کی نگرانی اور شہریوں کی پرائیویسی میں مداخلت پر شدید تنقید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل کے سائبر امور کے معاون عبدالصمد خرم آبادی نے ایک بیان میں کہا کہ ’باسیج‘ ملیشیا کے 18 ہزار ارکان کو ملک میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ باسیج ملیشیا کے سائبر ماہرین پر مشتمل یہ فوج ظفر موج سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے مواد اور وہاں پر سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق خرم آبادی کا کہنا ہے کہ باسیج ملیشیا کے 18 ہزار رضا کاروں کی خدمات بغیر کسی معاوضے کے حاصل کی گئی ہیں۔ یہ سائبر فوج رضاکارانہ طور پر حکومت کی مدد کررہی ہے۔

ایرانی پراسیکیوٹرکے معاون کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ پر مامور افراد سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہونے والے دیگر جرائم اور سرگرمیوں کے بارے میں اپنی رپورٹس پراسیکیوٹر کو پیش کریں گے۔

خرم آبادی کا کہنا ہے کہ باسیج ملیشیا کی رضاکار سائبر فورس کی طرف سے سامنے آنے والی رپورٹس سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں کی نشاندہی کا موثر اور قابل اعتبار ذریعہ ہے۔ ان رپورٹس کی روشنی میں حکومت انٹرنیٹ پر ہونے والی خلاف قانون سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے گی۔

پچھلے سال دسمبرمیں باسیج ملیشیا کے سربراہ علی صابر ھمدانی نے ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ اسکولوں اور جامعات کے طلباء پر مشتمل ایک سائبر فورس تشکیل دی گئی ہے جو ملک میں انیٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا تھا طلباء کی سائبر فورسز ایران مخالف سرگرمیوں کا پر خاص نظر رکھتی اور اس کے بارے میں حکام بالا کو معلومات فراہم کرتی ہے۔ ھمدانی کا کہنا تھا کہ سرکاری سطح پر 200 طلباء کو سائبر مانیٹرنگ کی پیشہ ورانہ تعلیم دینے کے لیے چنا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر قانون کی خلاف ورزی کرنےوالے 14 ہزار صفحات اور ویب سائیٹس کو بلاک کیا گیا ہے۔