.

ایران میں لاشوں کی خریدو فروخت کا دھندہ عروج پر!

طبی تجربات کے لیے ایک میت 3000 ڈالر میں دستیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں مُردوں کی خریدو فروخت کا دھندہ ایک بار پھر اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی میڈیکل یونیورسٹیوں اور اٹانومی کالجز کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ سائنسی تحقیقات اور تجربات کی خاطر بلیک مارکیٹ سے مردہ لوگوں کی میتیں خریدی جاتی ہیں۔ ایک مردہ انسان کے بدلے میں 10 ہزار ایرانی تومان ادا کیے جاتے ہیں۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 3000 ڈالر کے مساوی ہے۔

اخبار ’شہروند‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران کے اٹانومی سائنس بورڈ کی جانب سے فورینزک میڈیسن آرگنائزیشن کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ پوسٹ مارٹم اور سائنسی تجربات کے لیے تجربہ گاہوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی میتیں لائی جا رہی ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل کالجوں میں طلباء کی طرف سے بھی بلیک مارکیٹ سے لاشیں خریدی جاتی ہیں۔

مکتوب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حال ہی میں پندرہ ملین آبادی والے دارالحکومت تہران کی شاہراؤں سے 100 لاشیں میڈیکل کالجوں اور جامعات میں لائی گئیں۔

ایک دوسرے اخبار ’ھمشہری‘ نے ایک خاتون ڈاکٹر نیوشا محمد زادہ کا بیان نقل کیا ہے جس کا کہنا ہے کہ میڈیکل یونیورسٹی نے طلباء کے تجربے کے لیے پھانسی پانے والے تین ملزمان کی میتیں فی کس 10 ہزار تومان کے بدلے خرید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔