.

نصف ٹن وزنی مصری لڑکی کا بھارت میں علاج جاری

ڈاکٹرعلاج کے حوالے سے پر امید، مریضہ کی نئی تفصیلات اور تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی 36 سالہ 500 کلو وزنی مریضہ کا بھارت کے شہر ممبئی کے ایک اسپتال میں علاج شروع کردیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غیرمعمولی موٹاپے کا شکار مصری لڑکی ایمان عبدالعاطی کے بھارت میں علاج اور اس کے بارے میں مزید تفیصلات بھی ملی ہیں۔

ایمان کو حال ہی میں ایک خصوصی پرواز کے ذریعے بھارت کے شہر ممبئی پہنچایا گیا تھا جہاں متعدد ماہر ڈاکٹر اس کے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ایمان کی ہمشیرہ شیماء احمد عبدالعاطی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ بھارتی معالجین نے انہیں اطمینان دلایا ہے کہ اس کی بہن کی حالت بہتر ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریضہ کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ نیز یہ کہ ڈاکٹر غیرمعمولی موٹاپے کی بیماری میں مبتلا لڑکی کا علاج شروع کرکے شہرت کمانے کی نیت نہیں رکھتے بلکہ انہوں نے محض انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اسے بھارت علاج کے لیے منتقل کیا ہے۔

ڈاکٹروں کو عالمی ذرائع ابلاغ کے طرز عمل سے شکایت ہے، کیونکہ ذرائع ابلاغ ایمان کی طبی حالت کے بارے میں افواہیں پھیلا کر صورت حال کو پیچیدہ اور اس کے اہل خانہ کو پریشان کررہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے شیماء احمد کو بتایا کہ وہ اس وقت تک ایمان کا علاج جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوجاتی۔

شیماء نے بتایا کہ اس کی بہن کے علاج پر مامور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایمان کے علاج میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے لیے اس سے بڑی اور کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ایمان کا علان نہیں ہو پاتا تو ان کے کئی سال کی محنت اور تجربہ رائیگاں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایمان کی طبی حالت کا معائنہ کرنے کے لیے بھارت کی تین رکنی ڈاکٹروں نے ٹیم نے دو ہفتے تک مصر میں مریضہ کا چیک اپ کیا، جب انہیں اچھی طرح تسلی ہوگئی کہ اس کا بھارت میں علاج ممکن ہے اس کے بعد اسے بھارت لے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

شیماء احمد نے بتایا غیرمعمولی موٹاپے اور بھاری جسامت کی بناء پر اس کی ہمشیرہ کو سفر پر لے جانا بہت مشکل مرحلہ تھا مگر مصری ائیرلائن کے تعاون سے ایمان کو خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے بھارت لے جانے کافیصلہ کیا گیا۔ ماضی میں کسی زندہ انسان کے لیے ہوائی جہاز کو کاٹ کر دروازہ نہیں بنایا گیا مگر ایمان کے لیے ہوائی جہاز کا خصوصی دروازہ بنا کر اسے اندر لے جایا گیا۔ ا سے قبل ایک بار ’رمسیس‘ [فرعون] کا ایک بھاری بھرکم مجسمہ مصر میں ایک سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے یہ طریقہ اپنایا گیا تھا۔

شیماء نے بتایا کہ ایمان کو اسکندریہ شہر میں ان کے گھر سے نکال کربیڈ پر اٹھانا بھی مشکل کام تھا مگر یہ کام بھی حکومتی اہلکاروں نے مکمل احتیاط اور ذمہ داری سے انجام دیا۔ ہوائی جہاز کے اندر لے جانے کے لیے بھی کرین کی مدد لی گئی اور ممبئی ہوائی اڈے پر جہاز سے کرین ہی کی مدد سے اتارا گیا۔ ممبئی کے اسپتال میں ایمان کے لیے 90میٹر کا ایک فلیٹ مختص کیا گیا ہے۔

موٹاپے سے مشکلات کا آغاز 10 سال کی عمر میں ہوا

غیرمعمولی موٹاپے کی خطرناک بیماری میں مبتلا مصری لڑکی ایمان احمد عبدالعاطی کے اہل خانہ نے بتایا ایمان کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کی عمر 10 سال تھی۔ موٹاپے نے اس کا چلنا پھرنا محال کردیا جس کے نتیجے میں وہ اسکول جانے سے محروم ہوگئی۔ موٹاپے نے نہ صرف اس کے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت ختم کردی بلکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم پر گوشت کی اتنی بڑی مقدار جمع ہوگئی کہ اس کا خود سے کروٹ بدلنا بھی ممکن نہ رہا۔

سنہ 2014ء میں ایمان عبدالعاطی کا وزن 300 کلو گرام ہوگیا۔یہ وہ وقت تھا جب ایمان کے لیے کروٹ بدلنا ناممکن ہوگیا۔ جسم کی غیرمعمولی ضخامت نے ایمان کے دماغ پربھی منفی اثرات مرتب کیے اور اس کی بات چیت بھی متاثر ہوگئی۔ اس کے بعد وہ مسلسل اپنے کمرے کے اندر ہی رہ گئی۔ اس کی دیکھ بحال بہن شیماء اور والدہ کرتیں۔ وہ اسے کھانا کھلانے اور قضائے حاجت میں مدد دیتیں۔

سنہ 2016ء میں اس کا وزن مزید بڑھ کر 500 کلو تک جا پہنچا۔ ایمان کے علاج کے لیے مصر اوریونان کے طبی ماہرین نے بھرپور کوشش کی مگر وہ اسے بیماری سے نجات دلانے میں ناکام رہے۔ بالآخر ایک بھارتی ڈاکٹر نے ایمان کے علاج کے لیے اپنی رضاکارانہ خدمات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔