اسلام دہشت گردی کا منبع نہیں : اینجلا میرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمن چانسلر اینجلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپ کے روس کے ساتھ تعلقات ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ضروری ہے کہ روس کے ساتھ مل جل کر کام کیا جائے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسلام بہ ذات خود دہشت گردی کا منبع نہیں ہے۔

اینجلا میرکل نے میونخ میں ہفتے کے روز سکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اسلامی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ہم سب کے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں اور ہم مل جل کر کام کر سکتے ہیں''۔ کانفرنس میں امریکا کے نائب صدر مائیک پِنس بھِی شریک تھے۔

وہ امریکا کی جانب سے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر عاید کردہ سفری پابندی کی سخت ناقد ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بات زور دے کر کہی کہ مسلم ممالک کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک کیا جانا ضروری ہے۔

انھوں نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ جرمنی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے مقرر کردہ ہدف کے مطابق 2024ء تک دفاعی اخراجات پر مجموعی قومی پیداوار کا دو فی صد صرف کرنے کے لیے ہرممکن اقدام کرے گا۔ واضح رہے کہ امریکا جرمنی سے دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔

اینجلا میرکل کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ سائبر حملوں اور جعلی خبروں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گی۔ ان کا کہنا تھا:'' ہم جانتے ہیں کہ روس بڑے کھلے انداز میں خبریں پھیلاتا ہے اور وہ نفسیاتی جنگ کو دفاع کی ایک شکل سمجھتا ہے''۔

ان سے روس کی جانب سے جعلی خبریں پھیلانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''اگر میں نیٹو اور روس کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے کے بارے میں کسی ایک چیز کی تمنا کرسکتی تو وہ یقینی طور پر اسی موضوع پر ہی گفتگو ہوتی''۔

کانفرنس میں امریکی نائب صدر نے اپنی تقریر میں اپنے اتحادیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نیٹو کی حمایت جاری رکھے گی اور وہ روس سے تعاون کے نئے مواقع پر غور کے باوجود یورپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی سے متعلق کسی بین الاقوامی فورم پر اپنی پہلی اہم تقریر میں مائیک پِنس نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا کہ انھیں تنظیم کی معاونت کے لیے اپنا جائز حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ بہت سے ممالک اس معاملے میں کوئی واضح موقف نہیں رکھتے ہیں۔

انھوں نے روس پر بھی زوردیا کہ اس کو منسک امن معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے اور مشرقی یوکرین میں تشدد کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کے ساتھ از سرنو تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کے باوجود کریملن کو یوکرین کے معاملے میں قابل مواخذہ قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں