جماعتِ اسلامی کے نابینا شیخ عمرعبدالرحمان امریکی جیل میں چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے شدت پسند اسلامی جنگجو گروپ الجماعۃ الاسلامیہ کے سابق سربراہ شیخ عمر عبدالرحمان امریکا کی ایک جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گذشتہ بیس سال سے زیادہ عرصے سے قید کاٹ رہے تھے اور ان کی عمر 78 سال تھی۔

ان کے بیٹے اور بیٹی نے ہفتے کے روز ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔وہ نابینا شیخ کے نام سے بھی معروف تھے۔ انھیں امریکا کی ایک عدالت نے 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر بم حملے سمیت مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

وہ 1980ء کے عشرے میں مصر میں اسلامی انتہا پسند حلقوں میں ایک اہم شخصیت خیال کیے جاتے تھے۔ان پر مصر کے سابق صدر انورالسادات کے 1981ء میں قتل کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں بھی فرد جُرم عاید کی گئی تھی لیکن بعد میں انھیں اس الزام سے بری کردیا گیا تھا۔

شیخ عمر عبدالرحمان 1990ء میں امریکا چلے گئے تھے جہاں وہ بروکلین اور نیو جرسی کی مساجد میں خطیب رہے تھے۔ان پر پانچ سال بعد ''امریکا کے خلاف شہری دہشت گردی کی جنگ مسلط کرنے کی سازش'' اور 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس واقعے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان پر اقوام متحدہ سمیت دوسری اہم تنصیبات کو بموں سے اڑانے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں