امریکا "F-35" طیاروں سے بے نیاز ہونے جا رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بوئنگ کمپنی کے تیار کردہ F/A-18 سُپر ہورنٹ طیاروں کے بڑے آرڈر کا عندیہ دیا ہے۔

ہفتے کے روز جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن مین بوئنگ کمپنی کے ملازمین کے سامنے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ " ہم سنجیدگی کے ساتھ F/A-18 سُپر ہورنٹ طیاروں کا ایک بڑا آرڈر دینے پر غور کر رہے ہیں"۔

امریکی صدر فوج کو F/A-18 سُپر ہورنٹ طیارے فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مارٹن لاک ہیڈ کمپنی کے تیار کردہ F-35 لڑاکا طیاروں کی جگہ لے سکیں جن کی وصولی میں تاخیر ہونے کے علاوہ ان کی لاگت بھی کافی بڑھ چکی ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے مطالبے پر امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے F/A-18 سُپر ہورنٹ طیاروں کی خریداری کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے پروگرام کا تفصیلی مطالعہ شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ "F-35" پروگرام جس کے تحت اب تک 210 طیارے تیار کیے جا چکے ہیں ، عسکری تاریخ کا مہنگا ترین پروگرام ہے۔ ابھی تک اس کی لاگت 400 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جب کہ آئندہ دہائیوں میں اس نوعیت کے تقریبا 2500 طیارے درکار ہوں گے۔

پینٹاگون کی جانب سے آرڈر کیے جانے والی آخری کھیپ میں ایک "F-35 A" طیارے کی قیمت 94.6 کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں