حزب اللہ سے امریکی مقابلے کا راستہ وینزویلا سے گزر کر جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خزانہ دہشت گردی سے متعلق مختلف الزامات کے پس منظر میں باری باری پابندیوں کی فہرست میں ناموں کو درج کرتی ہے۔

اسی سلسلے میں وینزویلا کے صدر کے نائب طارق العیسمی کو کچھ عرصہ قبل مذکورہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ العیسمی کے منصب کے سبب توقع ہے کہ انہیں مامونیت حاصل ہو جائے گی تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں ان کے خلاف متعدد الزامت کا انکشاف کیا گیا ہے۔

تقریبا ایک ماہ قبل اپنا منصب سنبھالنے والے شامی نژاد العیسمی کو درج ذیل امور میں ملوث بتایا گیا ہے :

- منشیات کی تجارت

- دہشت گردی کی سپورٹ

- پاسپورٹ اور ویزے کی تجارت تاکہ جنوبی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک کے راستے دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور آمد و رفت کو آسان بنایا جائے

- منشیات کے تاجروں اور اس کی اسمگلنگ کے بڑے ناموں کا تحفظ

- میکسیکو امریکا سرحد پر سرنگوں کے راستے منشیات کے گروپوں کو لوجسٹک خدمات فراہم کرنا

رپورٹوں کے مطابق العیسمی منشیات کی رقوم کی منی لانڈرنگ اور لبنان ، یورپ اور افریقا میں اپنے زیر کنٹرول بینکنگ کے راستوں کے ذریعے ان رقوم کو دوبارہ گردش میں لانے کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ العیسمی پر جنوبی امریکا میں حزب اللہ ملیشیا کو سیاسی پشت پناہی اور لوجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

ادھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ العیسمی کا امریکی پابندیوں کے شکنجے میں کسے جانے کا مطلب ہے کہ خطے میں حزب اللہ ملیشیا کے زیر انتظام ایک طاقت ور ترین نیٹ ورک کاری ضرب کا نشانہ بنے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں