.

اپوزیشن رہ نماؤں کو بیرون ملک قتل کرنے ایرانی ٹی وی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ایرانی حکومت بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہ نماؤں کو ایجنٹوں کی مدد سے قتل کراتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ٹی پر نشر کیے جانے والے ایک پروگرام میں شریک انیس النقاش جو حزب اللہ کے ایک سابق کمانڈر عماد مغنیہ کی تربیت کی وجہ سے بھی مشہور ہیں نے بیرون ملک اپوزیشن رہ نماؤں کو ’ٹھکانے‘ لگائے جانے کا اعتراف کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انیس نقاش نے کہا کہ وہ فرانس میں قید تھے جب ایرانی صحافی وحید یامین بور ان کے پاس آئے۔ایران میں انقلاب کے ایک سال بعد انیس النقاش فرانس میں سابق بادشادہ کے وزیراعظم شاہ پور بختیار کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کی اسکیم کے تحت آئے۔ مگر وہ اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے۔ خود پکڑے گئے اور کئی سال فرانس کی ایک جیل میں گذارے۔

یاد رہے کہ انیس نقاش سنہ 1951ء میں بیروت میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1968ء میں انہوں نے تحریک فتح میں شمولیت اختیار کی اور جماعت میں متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد وہ ایران کےقریب ہوگئے اور لبنان میں حزب اللہ کی عسکری قیادت کی تربیت کی۔ فلسطینی تنظیموں اور ایران کے درمیان قربت پیدا کرنے میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ وہ فرانس میں سابق وزیر شابور بختیار کے قتل کے مشن میں آئے مگر گرفتار ہونے کے بعد 10 سال تک جیل میں رہے۔ ان کی رہائی سنہ1990ء میں عمل میں لائی گئی۔

سرحدوں سے باہر قاتلانہ کارروائیاں

انیس نقاش شابور بختیار کے قتل میں ناکام رہے، مگر بختیار کو 6 ستمبر 1991ء کو تین مسلح افراد نے پیرس کے نواح میں ان کے سیکرٹری سمیت قتل کردیا۔ اس حملے میں بختیار کا ایک پڑوسی اور ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا جسےچاقو کے ساتھ ذبح کیا گیا، تاہم بختیار کے قتل کی خبر 36 گھنٹے بعد سامنے آئی۔

فرانسیسی پولیس نے بختیار کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کیے تو ان میں سے دو ایران فرار میں کامیاب ہوگئے جبکہ تیسرے ایجنٹ کوسوئٹرزلینڈ میں گرفتار کیا گیا جس کی شناخت علی وکیلی راد کے نام سے کی گئی۔ ایک دوسرے ملزم زینال سرحدی کے ساتھ وکیلی زاد کو فرانس کے حوالے کردیا گیا۔ وکیلی پر مقدمہ چلایا گیا اورسنہ 1994ء میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

وکیلی راد کو سنہ 2009ء میں تہران میں گرفتار ایک فرانسیسی معلم کے بدلے میں رہا کیا گیا۔ فرانسیسی استاد کو ایران میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سنہ 2014ء میں ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے ایجنٹ بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہ نماؤں کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچ عسکریت پسند گروپ کے سربراہ عبدالرحمان ریگی اور اس کےبھتیجے کی پاکستان کے اندر گھس کر ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ ایران اپنے دشمنوں کو ہرجگہ نشانہ بنائے گا۔

شابور بختیار کے سمیت کئی اپوزیشن رہ نماؤں کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے ایجنٹوں نے دوسرے ملکوں میں قتل کیا، ان میں کرد رہ نما عبدالرحمان قاسملو کو آسٹریا میں جب کہ صادق شرفکندی اور اس کے دو ساتھیوں کو جرمنی میں، سابق بادشادہ کے مقرب فن کار فریدون فرخ زاد کو بھی بیرون ملک ایک کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔