.

یمنی حوثی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب : یو این رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ماہرین نے یمن کی صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حوثی باغی بدعنوانی سے لے کر تشدد تک مختلف خلاف ورزیوں میں ملوّث ہیں۔

رپورٹ میں حوثی ملیشیا کی مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ باغیوں نے یمن میں جاری تنازعے کے دوران میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے اپنے مخالفین کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے سراغرساں اور سکیورٹی اداروں پر کڑا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔ معزول صدر علی عبداللہ صالح نے قبائلی ، سیاسی اور فوجی اتحادیوں کے ایک نیٹ ورک پر کنٹرول قائم کررکھا ہے۔حوثیوں کا ایک سیاسی اور ایک فوجی شعبہ ہے اور ابھی تک عبدالملک الحوثی اس کے فیصلے کررہے ہیں۔

علی صالح کے وفادار جنگجو گروپ اور حوثی ملیشیا دونوں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغی منشیات کی تجارت ، اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹ میں اشیاء کی فروخت کے ذریعے حکومت کے خلاف جنگ کے لیے مالی وسائل مہیا کررہے ہیں۔رپورٹ میں حوثیوں پر سعودی شہروں کو میزائلوں اور راکٹوں سے نشانہ بنانے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔