ایران خلیجِ عربی کے ساحل پر آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کے درپے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر اور ایران میں آزاد علاقوں کی کمیٹی کے سربراہ اکبر ترکان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت خلیج عربی اور بحر عُمان کے ساحلوں کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام صوبوں سے شہریوں کو ہجرت کروا کر مذکورہ علاقوں میں بھیجا جائے گا.. اس طرح آئندہ 55 برسوں کے دوران وہاں کی آبادی 15 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ افراد ہو جائے گی۔

اس سلسلے میں ایرانی حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں ملک کے جنوبی صوبے فارس کو توسیع دے کر خیلج عربی سے ملانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبہ ہرمزگان کے ساحلی حصوں کو کاٹ کر علاحدہ کرنے کی مہم شروع کی گئی جن میں خلیج عربی کے ایک جانب پھیلے ہوئے عرب دیہات اور علاقے شامل ہیں۔ تاہم ان علاقوں کے رہنے والوں کی جانب سے احتجاج کے سبب اس مہم کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے ساتھ کابینہ کے مشترکہ اجلاس میں ایرانی صدر کے مشیر اکبر ترکان نے نئے منصوبے کا اعلان کیا گیا جس کا محور ایران کے چھٹے ترقیاتی منصوبے کے ضمن میں مذکورہ علاقے کے آبادیاتی تناسب میں جامع تبدیلی کے واسطے بڑے منصوبے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے زیر انتظام نیوز ایجنسی "خانہ ملّت" نے ترکان کے حوالے سے بتایا ہے کہ "دنیا کی تقریبا 80% آبادی ساحلی علاقوں میں رہتی ہے جب کہ جنوبی ایران کے ساحلوں پر صرف 15 لاکھ افراد رہتے ہیں جو مجموعی آبادی کا 2% سے بھی کم ہے"۔

ترکان کے مطابق اس منصوبے کا پہلا ہدف ساحلوں کی آبادی کو 15 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ تک پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف صوبوں سے 25 لاکھ شہریوں کو خلیج عربی کے ساحلوں پر اور دیگر 25 لاکھ کو بحر عمان کے ساحلوں پر منتقل کیا جائے گا۔

ترکان نے مزید بتایا کہ اس طرح 5 بڑے اقتصادی مراکز قائم ہوں گے اور جنوبی ساحلوں پر 5 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ترکان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کے واسطے مطلوب بجٹ مختص کرنے کے حق میں رائے شماری کی جائے۔

جون 2016 میں ایرانی صوبے ہرمزگان میں خلیج عربی کے ساحل پر پھیلے پانچ عرب دیہات (شمالی تمبو ، جنوبی تمبو ، سورباش ، فوارس اور عجابر) میں کئی روز تک وسیع پیمانے پر عوامی مظاہرے جاری رہے۔ ان کے نتیجے میں ایرانی حکومت کی جانب سے مذکورہ عرب دیہاتوں کو پڑوسی صوبے فارس میں ضم کرنے کے منصوبے پر عمل درامد روک دیا گیا۔ اس کا مقصد فارس صوبے کو خلیج عربی کے ساتھ جوڑنا ہے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے ہرمزگان صوبے میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں تصویری رپورٹیں نشر کی گئیں۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران مذکورہ دیہات کے سنی عرب باشندوں کو مظاہروں کے باعث متعدد بار مار پیٹ اور گرفتاریوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان مظاہروں کے ذریعے مقامی آبادی اس منصوبے پر عمل درامد کو رکوانے میں کامیاب ہو گئی جس کو وہ "نسل پرستی" پر مبنی قرار دیتی ہے۔

اس متنازع منصوبے پر عمل درامد کا آغاز سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں ہوا۔ نژاد نے 2013 میں اپنی دوسری مدت صدارت کے اختتام پر ایک فرمان جاری کیا تھا جس میں جنوبی صوبے ہرمزگان کے ضلع القابندیہ کے علاقوں اور دیہات کو کاٹ کر علاحدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔اس کے نتیجے میں علاقے کے باشندوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور حکام نے بہت سے مظاہرین کو قومی سلامتی میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

احمدی نژاد نے علاقے کا نام تبدیل کر دیا

احمدی نژاد کی حکومت نے 18 اپریل 2007 کو ایک فیصلہ جاری کرتے ہوئے "القابندیہ" ضلعے کا نام تبدیل کر کے "پارسیان" کر دیا۔ القابندیہ ضلعے کی حدود شمال میں "لامرد" شہر سے شروع ہوتی ہے ، جنوب میں عسلویہ شہر اور مشرق میں اس کا اختتام شیبکوہ قصبے پر ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر القابندیہ نصوری حکم رانوں (بنو خالد سے تعلق رکھنے والے عرب) کا مرکز رہا جنہوں نے اس علاقے کے ساتھ کنکان پر بھی حکومت کی تھی۔ اس وقت یہاں کی غالب اکثریت سنی عربوں (شافعی مسلک) کی ہے جب کہ شیعہ آبادی اقلیت میں ہے۔ تاہم شاہ ایران کے دور سے ہی اس کو آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی بڑے شہروں میں عرب آبادی اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں