خامنہ ای سنی مسلمانوں کی پھانسیاں رکوائیں: بلوچ عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنی عالم دین الشیخ مولوی عبدالحمید اسماعیل نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے سنی مسلمانوں کو اندھا دھند پھانسیاں دینے کا سلسلہ بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مولوی اسماعیل نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام لکھے گئے اپنے مکتوب میں جیلوں میں ڈالےگئے سنی مسلمانوں کو پھانسیاں دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ جیلوں میں ڈالے گئے سنی مسلمانوں کو دی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد میں تیزی لائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں سنی مسلمانوں میں سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔

اپنے مکتوب میں الشیخ علامہ اسماعیل کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایرانی جوڈیشل کونسل کے سربراہ نے منشیات کے دھندے کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنےوالے اسیران کی سزاؤں پر تیزی سے عمل درآمد پر زور دیا تھا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں پھانسی کی سزاؤں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سنگین سزاؤں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے سنی مسلمانوں کے ممنوعہ اشیاء کے دھندوں میں ملوث ہونے کی بنیادی وجہ غربت اور بنیادی حقوق سے محرومی ہے۔ ایرانی حکومت بلوچ عوام کوان کے حقوق فراہم کرنے کے بجائے انہیں محروم رکھنے، ان کے حقوق کا استحصال کرنے اور معمولی جرائم کے الزامات کے تحت سنی مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے۔

ایران کے ایک فارسی نیوز ویب پورٹل "دوم اسفند" کے مطابق حالیہ کچھ عرصے کے دوران ایران کے بعض شہروں میں قائم جیلوں میں سنی مسلمانوں کی پھانسیوں میں عجلت جوڈیشل کونسل کےچیئرمین کے خفیہ ہدایت نامے پر عمل درآمد کا واضح ثبوت ہے۔

سنی عالم دین الشیخ عبدالحمید اسماعیل نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اپیل کی ہے کہ وہ سنی مسلمانوں کو پھانسیاں دینے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں۔ سپریم لیڈر کے نام بھیجے گئے مکتوب میں الشیخ اسماعیل کا کہنا ہے کہ رنگ، نسل اور مسلک کی بنیاد پر کسی طبقے کو انتقامی پالیسی کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ پھانسیوں کے معاملے میں دانش مندانہ پالیسی اختیار کرے اور سنی مسلمانوں کا اندھا دھند قتل عام بند کرے۔

خیال رہے کہ ایرانی صوبہ بلوچستان کے سنی عالم دین الشیخ عبدالحمید اسماعیل کو ایرانی حکومت کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے۔ وہ اکثراپنے بیانات میں تہران سرکار کی سنی مسلمانوں کے خلاف انتقامی پالیسیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔

سنہ 2009ء میں ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں انہوں اصلاح پسند لیڈر مہدی کروبی کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنےوالے شہریوں پر طاقت کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں