.

ملانیا ٹرمپ سے مشابہت.. اسرائیلی ماڈل نے 24 ہزار ڈالر کما لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے نتیجے میں جہاں بہت سے لوگوں کے اندر شدید غم و غصے کی لہر دوڑی وہاں نیویارک میں مقیم اسرائیلی ماڈل Mira Tzurr کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ امریکی اخبارMiami Herlad کی رپورٹ کے مطابق میرا شکل و صورت اور لہجے میں امریکی خاتونِ اوّل "ملانیا ٹرمپ" سے بڑی مشابہت رکھتی ہے۔ وہ ان دنوں نِجی تقریبات میں "ملانیا" کے طور پر شرکت کرنے کا معاوضہ 3 ہزار ڈالر سے زیادہ لے رہی ہے۔

میامی بِیچ 45 سالہ ماڈل میرا امریکی خاتون اوّل سے عمر میں ایک سال چھوٹی ہے تاہم دونوں کا وزن ایک ہی ہے۔ شکل اور اور چہرے کے نقوش اس حد تک ملتے ہیں کہ 20 جنوری کو ٹرمپ کے عہدہِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے میرا اب تک 8 مرتبہ ملانیا کے رُوپ میں نمودار ہو چکی ہے.. اس دوران اس نے 24 ہزار ڈالر سے زیادہ کما لیے۔

اسرائیلی ماڈل میرا بنیادی طور پر تل ابیب کے نزدیک مقیم ایک بیلے ڈانسر تھی۔ امریکا ہجرت کر جانے کے بعد اس نے فیشن ماڈلنگ کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا جہاں انتہائی مقابلے کی فضا میں اپنا مقام بنانا ہمیشہ سے دشوار رہا ہے۔ تقریبا 6 ماہ قبل اس کو ملانیا ٹرمپ کے ساتھ اپنی مشابہت کا احساس ہوا۔ اس کے بعد تو گویا میرا نے اپنی اس خوبی سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی۔

ٹرمپ.. جون ڈی ڈومینیکو کے لیے "ٹریڈ مارک"

یہ تو تھا ملانیا ٹرمپ سے مشابہت رکھنے والی میرا تزور کا ذکر.. ادھر نیویارک میں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل و صورت اور لہجے سے انتہائی مشابہت رکھنے والا بھی ایک امریکی موجود ہے جس کا نامJohn Di Domenicoo ہے۔ گزشتہ سال اگست میں 55 سالہ جون نے میرا کے ساتھ مل کر سڑک پر ایک وڈیو کی عکس بندی کرائی تھی جس میں یہ دونوں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا کے روپ میں نمودار ہوئے۔ دونوں کے کاروباری امور کا ذمے دار ایک امریکی شہری Lee McDonald ہے۔

جون تقریبا 12 برس سے ٹرمپ کی مشابہت کو کام میں لا رہا ہے تاہم ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے نتیجے میں ٹرمپ کا نام اب جون کے لیے ایک " ٹریڈ مارک" بن گیا ہے۔ اس منافع بخش کاروبار کے سبب جون کے ساتھ مزید 4 افراد کو بھی روزگار حاصل ہو گیا جو ٹرمپ کے شبیہہ جون کی معاونت کرتے ہیں۔

عراقی شہری "ابو شدراک" بھی شبیہہ کا حامل.. مگر

ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت رکھنے والے افراد صرف امریکا میں ہی نہیں بلکہ دیگر براعظموں میں بھی موجود ہیں۔ ان ہی میں سے ایک محسن جابر العتابی بھی ہے جو عراق کے صوبے واسط کے قصبے "الکوت" میں رہتا ہے۔ "ابو شدراک" کی عرفیت رکھنے والے عراقی شہری کے بارے میں اسرائیلی ٹی وی کے چینل 10 پر ایک مختصر رپورٹ بھی نشر ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر سے مشابہت رکھنے پر العتابی اسرائیل میں کافی معروف ہیں۔ بالخصوص ان کے سنہرے "بالوں کی لٹ" تو ٹرمپ کے بالوں کی اصلی لٹ محسوس ہوتی ہے۔

تاہم دونوں کی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ٹرمپ صدر کے عہدے پر فائز ایک ارب پتی ہیں جب کہ العتابی ماتحت ملازم کی زندگی گزارنے والا ایک غریب انسان جس نے ٹرمپ کی مشابہت رکھنے کے باوجود اس خوبی سے اب تک کچھ نہیں کمایا۔

ٹرمپ اور العتابی کی تصاویر پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دونوں کے درمیان مشابہت نہیں پائی جاتی بلکہ یہ قصّہ صرف العتابی کے بالوں اور ان کے سنہری رنگ سے متعلق ہے۔ اگر العتابی کے بالوں کا رنگ سیاہ ہوتا تو ٹرمپ کے ساتھ دور کی بھی مشابہت محسوس نہ ہوتی۔