.

’ارخبیل‘ کے سات جزیرے یمنی باغیوں کو اسلحہ اسمگلنگ کے ایرانی اڈے

عدم مداخلت کا دعوے دار ایران کی حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ڈپٹی آرمی چیف جنرل احمد سیف الیافی نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران کی طرف سے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی اسمگلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ باب المندب اور خلیج عدن بندرگاہوں کے درمیان واقع ارخبیل کے سات جزیرے یمنی باغیوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کے ایرانی اڈے ہیں۔ ان جزیروں سے المخا اور الحدیدہ بندرگاہوں تک ایران اسلحہ پہنچا رہا ہے جہاں یہ اسلحہ حوثی باغیوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ارخبیل یمن کے مغربی ساحل سے قریب واقع جیبوتی کے ابخ علاقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ایران پہلے مرحلے میں اسلحہ ان جزائر تک پہنچا جاتا ہے، وہاں سے موقع پاتے ہی اسلحہ الحدیدہ اور المخاء بندرگاہوں میں حوثی باغیوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔

اخبار ‘الشرق الاوسط‘ سے بات کرتے ہوئے یمنی ڈپٹی آرمی چیف نے کہا کہ حال ہی میں یمنی باغیوں نے ایرانی ساختہ ایسے بم استعمال کیے ہیں جو ماضی میں لبنانی حزب اللہ استعمال کرتی رہی ہے۔

ایک دوسرے سیاق میں بات کرتے ہوئے جنرل الیافعی نے کہا کہ یمن میں مختلف محاذوں پر تازہ جھڑپوں کے دوران درجنوں باغی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر جنگجو ایرانی تعلیمی اداروں سے تربیت یافتہ تھے۔ حوثی ملیشیا کی بڑی تعداد المخاء میں محاذ جنگ پر بھی ماری جا چکی ہے۔