.

سعودی عرب : ارب پتی کو منی لانڈرنگ پر بھاری جرمانے اور جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک اپیل عدالت نے ایک ارب پتی شخص کو منی لانڈرنگ پر سنائی گئی چھے سال قید اور آٹھ لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا برقرار رکھی ہے۔

ایک ذریعے کے مطابق اس ارب پتی کو ایک فوجداری عدالت نے گذشتہ ماہ یہ سزا سنائی تھی اور اپیل عدالت نے اب اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔

اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ ’’ اس شخص کو منی لانڈرنگ (کالے دھن کو سفید کرنے) اور ایک غیر قانونی کاروبار چلانے کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا۔وہ اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت مختصر عرصے میں ارب پتی بن گیا تھا۔عدالت نے قید کی مدت پوری ہونے کے بعد رہائی پر اس کے مزید چھے سال تک بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عاید کردی ہے‘‘۔

سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے فوجداری عدالت کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ مدعاعلیہ کے بھائی پر بھی جرمانہ عاید کرے کیونکہ وہ بھی منی لانڈرنگ کے دھندے میں اس کا ساتھی رہا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس کے بھائی پر آٹھ لاکھ ڈالرز جرمانہ عاید کرنے کی تجویز دی تھی۔

مملکت کے ادارہ تحقیقات اور پراسیکیوشن کے شعبہ مالی جرائم نے اس تیس سالہ مدعا علیہ کے خلاف اس کے بنک اثاثوں میں یک دم اربوں ریال کے اضافے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔اس شخص نے متعدد جعلی بین الاقوامی کاروبار کھول رکھے تھے اور اس کے صارفین اس کے مقامی بنک کھاتوں میں بھاری رقوم جمع کرا رہے تھے۔

اس کے بنک نے اس کے کھاتے میں رقوم کی اس طرح مشتبہ انداز میں منتقلی کی ادارہ تحقیقات کو اطلاع دی تھی اور اس شخص کو ایک افریقی ملک سے سعودی عرب واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔