.

صدام سے پوچھ گچھ کرنے والےCIAاہل کار کے دل چسپ انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کے تحقیق کار جان نکسن کے مطابق اُن کی اولین ذمے داری سابق عراقی صدر صدام حسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرنا تھی۔ بعد ازاں انہیں بغداد بھیج دیا گیا تاکہ وہ صدام کی تلاش میں مدد کر سکیں۔ نکسن کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ امریکی افواج نے جس شخص کو گرفتار کیا تھا وہ صدام حسین ہی تھا۔ نکسن نے 30 یا 40 سوالات کی فہرست تیار کی جس کا جواب صرف صدام ہی دے سکتے تھے۔ جان نکسن نے یہ انکشافات العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "نقطۃ نظام" میں دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیے۔ یہ انٹرویو جمعے کی شب پاکستان کے وقت کے مطابق رات 10:30 بجے نشر ہو گا۔

جارج نکسن نے عراق میں اپنا زیادہ تر وقت سابق صدر صدام حسین سے پوچھ گچھ میں گزارا۔ نکسن نے ایک اہم کتاب بھی تالیف کی جس کا نام ہے :

Debriefing the President : The Interrogation of Saddam Hussein

نکسن کا کہنا ہے کہ "امریکیوں کے لیے ایک یا دو بنیادی امور تھے۔ یہ بات جاننا اہم ترین تھا کہ آیا عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں یا نہیں ، اس لیے کہ یہ عراق میں امریکا کے داخلے کا اصل سبب تھا۔ اُس وقت امریکی سیاسی ذمے داران سمجھتے تھے کہ صدام کے پاس یہ ہتھیار ہیں۔ تاہم آخرکار ہمیں اس نوعیت کا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ میرے نزدیک یہ امر انتہائی شرمندگی کا باعث تھا۔ وہ ہر ایسی چیز کی تلاش میں تھے جو ان کی حجت کو سپورٹ کر سکے"۔

نکسن کے مطابق صدام حیسن پوچھ گچھ کے دوران بہت تعاون کرتے تھے اور انہوں نے زیادہ تر جو باتیں کہیں وہ حقیقت پر مبنی تھیں۔

کویت پر حملہ صدام کے لیے دردِ سر

جان نکسن کے مطابق "صدام حسین نے اعتراف کیا کہ کویت پر حملہ ان کی غلطی تھی۔ نکسن نے جب صدام کے ساتھ کویت کے حوالے سے بات شروع کی تو عراقی صدر نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر کہا کہ اس کو سوچنے سے میرے سر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ صدام کی نظر میں کویت کی جنگ ایک ایسی غلطی تھی جس کے خمیازے کو وہ کئی برسوں بعد بھی نہیں بھلا سکے"۔ نکسن کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر صدام حسین کو معلوم ہوتا کہ امریکا کویت سے ان کی فوج کو نکالنے کے لیے 5 لاکھ فوجی بھیج دے گا ، عراقی فوج کے خلاف بین الاقوامی عسکری اتحاد قائم ہو جائے گا ، سلامتی کونسل عراق کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کر کے اُس پر پابندیاں عائد کر دے گی تو صدام حسین کبھی بھی یہ حملہ نہیں کرتے.. مگر یقینا عراقی صدر نے کویت کو سبق سکھانے کے حوالے سے اپنی خواہش پر عمل کیا"۔

صدام کا طیش میں آنا

سی آئی اے کے تحقیق کار کے مطابق جب انہوں نے صدام حسین سے حلبجہ میں کرد عراقیوں کو نشانہ بنانے کے موضوع پر بات کی تو صدام غصے سے بپھر گئے اور اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے۔ صدام حسین کا کہنا تھا کہ حلبجہ کے حوالے سے سوالات نزار الخزرجی سے پوچھے جائیں جو "الانفال" فوجی آپریشن میں فیلڈ کمانڈر تھا۔ نکسن کے مطابق پوچھ گچھ کی ابتدا میں وہ صدام کی باتوں کا یقین نہیں کرتے تھے تاہم بعد ازاں ان کو یہ انکشاف ہوا کہ سابق عراقی صدر اپنی باتوں میں سچے ہوتے تھے۔
صدام کو ان کے مخاصمین کے حوالے کرنا

جان نکسن کے مطابق "صدام حسین کو امریکی قبضے کے بعد تشکیل پانے والی حکومت میں ان کے مخاصمین کے حوالے کرنا ایک فحش غلطی تھی اور جس طرح صدام کے ساتھ معاملہ کیا گیا وہ میرے نزدیک انتہائی ہتک آمیز تھا۔ ہم سب کو ہی اندازہ تھا کہ عدالتی کارروائی کے بعد صدام کی کہانی کا انجام ان کی سزائے موت کی صورت میں سامنے آئے گا۔

خود صدام کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے۔ میرے خیال تھا کہ صدام کی گرفتاری اور ان کے خلاف سزائے موت سے عراقی شہریوں کے سامنے یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ ان کے ملک میں قانون کی بالا دستی ہے اور عراق میں ترقی کی جانب پیش رفت ہوگی۔ تاہم اس کے مقابل ایک سرکاری عمارت کے تہہ خانے میں راتوں رات جس طرح سزائے موت پر عمل درامد ہوا.. اس چیز نے مجھے متنفر کر دیا کیوں کہ میرے نزدیک اس اقدام نے جنگ مسلط کرنے کے کسی بھی جواز کو برباد کر ڈالا تھا"۔