.

طیارہ اغواء کی کوشش، FBI نے تفصیلات جاری کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو سال کی مسلسل قانونی جنگ کے بعد بالا ٓخر امریکی خفیہ ادارے’ ایف بی آئی‘ نے انفارمیشن فریڈم ایکٹ کے تحت سنہ 2009ء میں سال نو کے موقع پر القاعدہ کی طرف سے طیارہ اغواء کرنے اور شدت پسند گروپ کے خلاف جنگ کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’ایف بی آئی‘ کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق سنہ 2009ء میں امریکا کا ایک مسافر بردار ہوائی جہاز اغواء کرنے کی منصوبہ بندی القاعدہ کے مذہبی مبلغ انور العولقی نے تیار کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری نائیجیریا کے عمر فاروق عبدالمطلب کو سونپ گئی تھی۔ اس نے دھماکہ خیز مواد اپنے کپڑوں میں چھپا رکھا تھا۔

جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں یمن میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے انور العولقی نے سنہ 2009ء میں اپنی تقاریر سے متاثر ہونے والے ایک نائیجرین نوجوان فاروق کو خود کش حملے کے لیے قائل کیا تھا۔

’ایف بی آئی‘ کی تفصیلات اور دستاویزات کے مطابق امریکی نژاد العولقی نے عمر فاروق عبدالمطلب سے کہا کہ ’امریکا کے ایک ہوائی جہاز پرحملہ کرنا ہے‘ امریکی حکام کو یہ تفصیلات تفتیش کے دوران عبد المطلب نے بتائیں اور کہا کہ العولقی نے اسے طیارہ اغواء کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔

عبدالمطلب نے کہا کہ اس نے العولقی کے اکسانے پر ایک ہوائی جہاز میں خود کش دھماکہ کرنے اور بے قصور لوگوں کو ہلاک کرنے کا عزم کرلیا تھا۔ اس نا کہنا ہے کہ العولقی ماضی میں کئی ایسے اور منصوبے بنا چکا تھا۔

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ العولقی ہی سنہ 2009ء میں امریکا کا ایک ہوائی جہاز اغواء کرنے اور ایک شدت پسند کے کپڑوں میں دھماکہ خیز مواد چھپانے کی سازش کا ماسٹر مائیڈ تھا۔ اس کارروائی کے بعد امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے العولقی کو بغیر پائلٹ ایک ڈرون طیارے کےذریعے میزائل سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔ العولقی پہلا امریکی شہری ہے جسے بغیر مقدمہ چلائے ماورائے عدالت ڈرون طیارے سے مارا گیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2010ء میں ’ایف بی آئی‘ نے حراست میں لیے گئے نائیجیرین مبینہ خود کش بمبار عبدالمطلب سے دروان تفتیش حاصل ہونے والی معلومات کو افشاء نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد العولقی کے معاملے میں امریکی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کے پاس العولقی کو ڈرون طیارے سے نشانہ بنائے جانے کے ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔

حال ہی میں 200 صفحات کو محیط دستاویز میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہےکہ اوباما انتظامیہ کے پاس العولقی کی جانب سےامریکا میں ہوائی جہاز اغواء کرنے اور اس مقصد کے لیے نایئجیر کے عمر فاروق عبدالمطلب نامی ایک نوجوان کو تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

شبوۃ گورنری میں عبدالمطلب کی میزبانی

امریکی تفتیش کاروں سے دوران تفتیش 23 سالہ عبدالمطلب نے بتایا کہ وہ انور العولقی کی تعلیمات سے بہت متاثر تھا اور اس کی دعوت پر یمن گیا جہاں ایک شبوۃ گورنری میں قائم ایک ٹریننگ کیمپ میں موجود العولقی کی رہائش گاہ پر لے جایا گیا۔

العولقی نے اس کی بھرپر خاطر مدارت کی اور اسے اس کا ٹارگٹ بتانے کے ساتھ ساتھ اس کی ’جہادی‘ ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا۔ عبدالمطلب نے بتایا کہ شبوۃ میں ہونے والی ملاقات کے دوران العولقی کے ہمراہ کئی دوسرے جنگجو بھی موجود تھے۔ اس موقع پر العولقی نے میرا تعارف ایک بم ساز کے طور پر کرایا۔ العولقی نے خود کش حملے کی ویڈیو تیار کرنے میں مدد کی۔ یہ بہت مختصر ویڈیو تھی جس میں قرآن پاک کی چند آیات شامل تھیں۔ رابطے کے لیے ای میل کا ذریعہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

العولقی کی نصیحت

العولقی نے نائیجیرین نوجوان کو کئی نصیحتیں اور مشورے بھی دیئے۔ اس نے عمر فاروق عبدالمطلب سے کہا کہ وہ یمن سے کسی بھی دوسرے افریقی ملک کے سفر کے دوران اپنے بارے میں شبہ نہ ہونے دے۔ افریقی ملکوں میں جانے کے بعد وہاں سے امریکا جانے کا قصد کرے جہاں اسے ایک ہوائی جہاز کو اغواء یا خودکش حملے کانشانہ بنانا ہے۔ اس کارروائی کے لیے جگہ اور وقت کا تعین عبدالمطلب پر چھوڑ دیا گیا۔ مزید ہدایات کے لیے امریکا کی سرزمین میں داخل ہونے تک انتظار کرو۔

طیارہ امریکی سرزمین پر پہنچ گیا

عمر فاروق عبدالمطلب نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جب اسے اندازہ ہوا کہ ہوائی جہاز امریکا کی سرحد کے قریب پہنچ گیا ہے تو وہ دھماکے کی تیاری کے لیے جہاز کےٹوائلٹ گیا۔ تیاری کے بعد واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا تاکہ اپنے کپڑوں میں چھپائے دھماکہ خیز کیمیائی مواد کو دھماکے سے اڑا سکے۔

دوران تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ اس نے ہوائی جہاز میں ایک بم دھماکا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ وہ القاعدہ کا رکن ہے۔ سنہ 2012ء میں ٹرائل کے دوران بھی اس نے کہا کہ وہ عمر قید کی سزا کا مجرم ہے۔

خیال رہے کہ عبدالمطلب نے لندن کی کولیڈیج یونیورسٹی سے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کی اور برطانیہ میں اپنے ایک بھائی کے ہمراہ ایک مہنگے فلیٹ میں رہائش اختیار کی تھی۔ یہ فلیٹ ان کے والد کی ملکیت تھا۔

سنہ 2005ء میں لندن کے اسلامی کتب خانوں سے انور العولقی کے لیکچرز ملے جنہیں سن کر وہ بہت متاثر ہوا۔ سنہ 2009ء میں وہ دبئی میں تھا جب اسے خیال آیا کہ امارات میں اس کی موجودگی اللہ کی طرف سے یہ اشارہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ مجاھد بنے۔ اس کے بعد وہ العولقی سے ملنے یمن کے سفر پر روانہ ہوا اور یمن میں القاعدہ کے سربراہ انور العولقی سے ملاقات کی۔