.

امریکی تنصیبات ہماری فوج کے نشانے پر ہیں: ایرانی عہدیدار

امریکی ایماء پر جنگ مسلط کی تو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپیرم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مقرب عہدیدار نے کہا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران کے خلاف جنگ کے خطرات کم ہوگئے ہیں۔ وہ بہت بڑی غلطی کےمرتکب ہو رہے ہیں اور قوم سے جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ ایران کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو امریکی تنصیبات بھی ایران کی نشانے پر ہوں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خامنہ ای کے ایرانی جامعات کے لیے خصوصی ایلچی محمد محمدیان نے جمعہ کے روز جامعہ تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ اسلام بھی ہمیں دشمن کے خلاف خود کو مضبوط رکھنے کی تعلیم اور تلقین کرتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق محمد محمدیان نے دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے تہران کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی۔ ایران پر اسرائیل کی طرف سے امریکا کے کہنے پر حملے کی حماقت کی گئی تو حیفا اور تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید ایران پر حملے کا سوچنے والے پرلے درجے کے احمق اور بے وقوف ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ حملے کی صورت میں انہیں اس کا کیا خمیازہ بھگتنا پرے گا۔

انہوں شام اور عراق میں ایران کے عسکری کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان لڑائی کا امکان موجود ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو امریکی سپر پاور کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔

محمد محمدیان کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں امریکا کی تمام تنصیبات اسلامی جمہوریہ ایران کے نشانے پر ہوں گی۔ انہوں نے ایرانی قوم سے اپیل کی کہ وہ خود کو امریکا کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رکھیں۔

خیال رہے کہ امریکا میں حکومت کی تبدیلی اورڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ پہلے سے جاری تھی مگر اب یہ جنگ اپنے نقطہ عروج پر ہے اور آئے روز دونوں ملکوں کی قیادت ایک دوسرے کو ’سبق سکھانے‘ کی دھمکیاں دے رہی ہے۔