.

اھوازی رکن پارلیمان نے حسن روحانی کی معاون کو کھری کھری سنا دیں

عرب اکثریتی صوبےکے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں:علی ساری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عرب اکثریتی علاقے الاھواز سے ایرانی پارلیمنٹ کے منتخب رکن نے حال ہی میں صدر حسن روحانی کی خاتون معاون خصوصی کو صدر کی موجودگی میں کھری کھری سنائیں اور انہیں ’جھوٹی‘ مکار اور ’دغا باز‘ قرار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ میں ایک فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں صوبہ اھواز میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک تقریب کے دوران عرب رکن پارلیمنٹ نے صدر کی معاون خصوصی برائے ماحولیات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے عرب اکثریتی صوبے کے رکن شوریٰ علی ساری کی طرف سے یہ تنقید مرکزی شہر اھواز اور اس کئی دوسرے شہروں کو 27 جنوری کے بعد پانی، بجلی اور موبائل سروس سے محروم کیے جانے کے رد عمل سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ستائیس جنوری کے بعد صوبہ اھواز کے 11 شہروں اور کئی دیہاتوں میں بجلی اور پانی کی سپلائی برائے نام رہ گئی ہے۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اورشہری آبادیاں پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جب کہ صدر کی معاون خصوصی برائے ماحولیات ‘سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ پیش کر کے حقائق سے چشم پوشی اختیار کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اھواز صوبے کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جب کہ خشک سالی کے باعث زراعت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ صدر حسن روحانی اپنے متعدد وزراء کے ہمراہ 23 فروری کو صوبہ اھواز کے دورے پر آئے تھے۔ اس دورے میں ان کی معاون خصوصی برائے ماحولیات معصومہ ابتکار بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اس موقع پر کسی نے انہیں کہا کہ وہ صوبے میں شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے جھوٹ موٹ کے ترقیاتی منصوبوں اور سروسز کی فراہمی کے دعوے کیے مگر عرب رکن پارلیمنٹ علی ساری جو اس اجلاس میں موجود تھے کھڑے ہوگئے اور خاتون صدارتی مشیر کے اوپر شدید تنقید کی۔ انہوں نے باآواز بلند کہا کہ معصوبہ ابتکار جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ سب جھوٹ ہے۔

علی ساری کی طرف سے معصومہ ابتکار کے جھوٹے دعوؤں کی پرزور تردید کے وقت صدر حسن روحانی بھی موجود تھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب صوبہ اہواز کے شہریوں کو پانی کا صاف پانی میسر نہیں، بجلی اور مواصلات جیسی سہولتیں نہیں تو حکومت کس قسم کی سروسز کے دعوے کررہی ہے؟