.

ایران کی قزاقستان سے 950 ٹن یورینیم خرید کرنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے قزاقستان سےآیندہ تین سال کے دوران میں 950 ٹن یورینیم خرید کرنے کی درخواست کی ہے۔

ایران کی جانب سے یہ درخواست جولائی 2015ء میں اس کے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کی نگرانی کرنے والے ادارے کے ذریعے کی گئی ہے۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ایسنا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ یورینیم کی یہ خریداری آیندہ تین سال میں مکمل ہوگی۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’’650 ٹن یورینیم ملک میں دو کھیپوں میں آئے گی اور 300 ٹن تیسرے سال میں ملک میں داخل ہوگی‘‘۔

صالحی کا کہنا ہے کہ ییلو (زرد) کیک یورینیم کی حتمی کھیپ کو یورینیم ہیکسا فلورائیڈ گیس میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کو واپس قزاقستان کو فروخت کیا جائے گا۔یہ اس کی پہلی بین الاقوامی فروخت ہوگی۔اس کو یورینیم کو افزودہ کرنے کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنی سینٹری فیوجز مشینوں کو بند کردیا تھا لیکن اس کو ساڑھے تین فی صد کی سطح تک یورینیم کو افزودہ کرنے اور اس کو بیرون ملک فروخت کرنے کا حق حاصل ہے۔ جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کے لیے 80فی صد یا اس سے زیادہ سطح تک یورینیم افزودہ ہونی چاہیے۔

علی اکبر صالحی نے بتایا ہے کہ ایران کو گذشتہ سال جنوری میں جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد سے 382 ٹن ییلو کیک وصول ہوچکا ہے۔اس میں سے زیادہ تر مقدار روس نے بھیجی ہے۔