.

ٹرمپ انتظامیہ داعش کے لیے کون سی اصطلاح استعمال کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے داخلہ اور خارجہ امور سے متعلق نئی پالیسیاں اور اصطلاحات وضع کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اس نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے غور و خوض کے بعد اپنے سخت گیر دشمن جنگجو گروپ داعش کے بارے میں یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کے لیے سرکاری طور پر کون سی انگریزی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اب آئی ایس آئی ایل ( دولت اسلامیہ عراق اور لیوانٹ) کی اصطلاح استعمال نہیں ہوگی اور اس کی جگہ آئی ایس آئی ایس (دولت اسلامیہ عراق وشام) کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔

سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ اس انتہا پسند گروپ کے لیے اول الذکر اصطلاح استعمال کرتی رہی تھی۔اس نے اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ یہ دہشت گرد تنظیم عراق اور شام سے ماورا بھی عزائم رکھتی ہے۔

البتہ محکمہ خارجہ کے بعض اعلیٰ عہدہ دار اور فوجی کمانڈر عربی اصطلاح داعش بھی استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ماضی میں تمام سرکاری دستاویزات اور بیانات میں قبل ازیں آئی ایس آئی ایل کی اصطلاح ہی لکھی اور بولی جاتی رہی ہے۔

اب محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ اس کے عہدہ دار آیندہ آئی ایس آئی ایس کی اصطلاح استعمال کریں گے۔ سی این این نے پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ فوج آئی ایس آئی ایس ،آئی ایس آئی آیل اور داعش ایک چیز کے مختلف نام سمجھتی ہے‘‘۔

ان کے بہ قول آئی ایس آئی ایس کی اصطلاح سے امریکی عوام زیادہ بہتر انداز میں آگاہ ہیں۔ اسی اصطلاح کو ہماری قیادت استعمال کرتی ہے۔ اس میمو کے ذریعے ہماری اصطلاح ہی کی وضاحت کی جارہی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریروں اور بیانات میں آئی ایس آئی ایس کی اصطلاح ہی استعمال کرتے رہے ہیں اور وہ ایک طرح سے اپنی انتظامیہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ اس دہشت گرد گروپ کے لیے یہی اصطلاح سب سے زیادہ مناسب ہے۔

آئی ایس آئی ایل میں حرف ایل لیوانٹ کا مخفف ہے اور یہ ’’الشام‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ انگریزی میں یہ لفظ مبہم ہے۔اس سے مراد ترکی سے مصر تک کا درمیانی علاقہ ہے۔اس میں فلسطینی علاقے ،اردن اور لبنان بھی شامل ہیں۔