.

ایران کی آبنائے ہرمز کے نزدیک سالانہ بحری مشقوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بحری افواج نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کے نزدیک سالانہ مشقیں شروع کردی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کی یہ پہلی فوجی مشقیں ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بحریہ کے سربراہ حبیب اللہ سیاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نزدیک خلیج اومان اور بحرہند میں بیس لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں یہ مشقیں کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ تیل کی ایک تہائی عالمی تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے اور اس بحری راستے کے نزدیک قبل ازیں امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی ہوچکی ہے۔

ان بحری مشقوں میں ایران کی ایلیٹ پاسداران انقلاب کور کے بحری دستے شریک نہیں ہیں اور صرف ریگولر بحریہ ہی مشقیں کررہی ہے۔امریکی بحریہ ماضی میں پاسداران انقلاب پر اپنے جہازوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عاید کرچکی ہے۔بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے نے فوری طور پر ایران کی ان مشقوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔