.

ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کا ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کھلا خط

’’عزت مآب نے درست طور پر امریکا کے سیاسی نظام اور انتخابی ڈھانچے کو بدعنوان قرار دیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک کھلا خط شائع کیا ہے۔اس میں انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکا کے سیاسی نظام پر تنقید کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کے ویزے پر پابندی کے اقدام اور خواتین سے متعلق رویّے پر نکتہ چینی کی ہے۔

احمدی نژاد نے اپنی ویب سائٹ پر انگریزی اور فارسی زبان میں یہ خط شائع کیا ہے۔اس میں انھوں نے لکھا ہے:’’عزت مآب (جناب ٹرمپ) نے درست طور پر امریکا کے سیاسی نظام اور انتخابی ڈھانچے کو بدعنوان اور عوام دشمن قرار دیا ہے‘‘۔

خطے کے بیشتر مضمون میں سابق ایرانی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کی مداخلت کا سلسلہ بند کردیں اور سابق امریکی حکومتوں کے رعونت بھرے انداز سے بھی اپنا ناتا توڑ لیں۔

انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سمیت سات مسلم ممالک کے شہریوں پر عاید کردہ ویزے کی پابندی پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں اور اشرافیہ بہ شمول میرے دس لاکھ سے زیادہ ایرانی ہم وطنوں نے امریکا کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور معاصر امریکا تمام اقوام سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔

انھوں نے خط کے اختتام میں امریکی صدر کو خواتین کے احترام سے متعلق ایک مختصر لیکچر دیا ہے۔انھوں نے ممکنہ طور پر یہ نصیحت نامہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض خواتین پر جنسی حملوں سے متعلق منظرعام پر آنے والے دعووں کی بنیاد پر جاری کیا ہے۔

احمدی نژاد نے لکھا ہے کہ ’’تاریخ کی عظیم شخصیات نے ہمیشہ خواتین کو بلند احترام دیا ہے اور ان کی خداداد صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ عالمی رہ نماؤں کو گاہے گاہے خطوط لکھنا محمود احمدی نژاد کےمشاغل میں شامل ہے۔ وہ ماضی میں سابق امریکی صدر براک اوباما ،جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور پاپائے روم کو خطوط بھیج چکے ہیں۔انھوں نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو اٹھارہ صفحات پر مشتمل ایک خط بھیجا تھا۔