.

برطانیہ کی پروازوں کی مسلسل معطلی پر مصر کا اظہارِ مایوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے برطانیہ کی جانب سے ساحلی سیاحتی شہر شرم الشیخ کے لیے پروازوں کی معطلی کو بحال کرنے سے انکار پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ نے 2015ء میں روس کے ایک مسافر طیارے کی بم دھماکے میں تباہی کے بعد سے شرم الشیخ کے لیے اپنی پروازیں معطل کررکھی ہیں۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور وزیر خارجہ سامح الشکری نے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے ان کے دورے کے موقع پر پروازوں کی سکیورٹی کے معاملے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

لیکن برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق بورس جانسن نے مصر کو اپنے ملک کا ایک دیرینہ دوست قرار دینے پر اکتفا کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نظریات کے خلاف مضبوط اتحادی ہیں۔

اس کے ردعمل میں مصری وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے شرم الشیخ کے لیے پروازوں کی مسلسل معطلی غیرمنصفانہ ہے۔واضح رہے کہ برطانوی شہریوں کی بڑی تعداد ہفتہ وار چھٹیاں منانے یا سیر وسیاحت کی غرض سے شرم الشیخ اور دوسرے مصری سیاحتی مقامات کا رُخ کرتی ہے۔

جزیرہ نما سیناء میں روسی طیارے کی تباہی کے بعد برطانیہ اور جرمنی دونوں نے مصر کے بعض مقامات کے لیے پروازوں پر پابندی عاید کردی تھی۔داعش کے بم حملے میں مسافر طیارے میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔روس نے بھی اس واقعے کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مصر کے لیے اپنی تمام پروازیں معطل کردی تھیں اور انھیں ابھی تک بحال نہیں کیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہوائی اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کے باوجود برطانوی ائیرلائن کی مختلف سیاحتی مقامات کے لیے پروازوں کی بندش مکمل طور پر ناقابل فہم اور غیر منصفانہ ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پروازوں کی معطلی سے مصر کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے مصر کی معاونت کے لیے باربار کے وعدوں سے بھی کوئی لگا نہیں کھاتا ہے۔

برطانیہ کے مذکورہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ پروازیں کب بحال کی جائیں گی۔بورس جانسن کے دورے کے موقع پر برطانیہ اور مصر نے پندرہ کروڑ ڈالرز قرض کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔اس کے تحت برطانیہ مصر کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کی تکمیل میں مدد دے گا۔