.

روسی سائبر فورس’ہیکنگ‘ کے لیے’داعش‘ کا نام کیوں استعمال کرتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد امریکا اور روس کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے الزامات کے باعث کشیدگی سامنے آئی۔ امریکی خفیہ اداروں نے روس پر امریکی صدارتی انتخابات میں ہیکنگ کے ذریعے اثر انداز ہونے کا الزام عاید کیا، مگر روسی سائبر فورسز کی جانب سے مبینہ ہیکنگ کہ کہانی ایک دوسرا رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اخبار’فائنینشل ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روسی سائبر فورسز اپنی شناخت چھپانے کے لیے ہیکنگ کے لیے دولت اسلامیہ’داعش‘ کا نام استعمال کرتی رہی ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی ہیکرز مغربی مفادات پر ’داعش‘ کے نام کے پیچھے چھپ کر ہیکنگ کی کارروائیاں کرتے پائے گئے ہیں۔ خود روس نے یہ تسلیم بھی کیا ہےکہ اس کے ہیکروں نے مغربی اداروں کی ویب سائیٹس یا آن لائن سروسز تک رسائی کے لیے ’داعش‘ کا نام استعمال کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2015ء کو فرانسیسی ٹیلی ویژن چینل نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کی ٹی وی اسٹیشن کی خصوصی سروسز کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہیکنگ کے بعد ٹی وی کی ویب سائٹ پر ’الخلافہ الاسلامیہ‘ کی عبارت تحریر کی گئی۔ اس وقت فرانسیسی ماہرین اسے داعش ہی کی کارستانی قرار دیتے رہے۔ دو ماہ بعد روسی انٹیلی جنس حکام نے پتا چلایا کہ ’داعش‘ کے نعرے کی آڑ میں سائبر کارروائی کے پیچھے APT 28 نامی ایک سائبر گروپ ہے اور وہی ان حملوں کا ذمہ دار ہے۔ یہ گروپ روس میں سرگرم عمل ہے۔

2016ء میں امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران اسی مذکورہ سائبر گروپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائٹ ہیک کی اور ہیلری کلنٹن کی ممکنہ انتخابی جیت کو مشکوک بنانے کے لیے ہزاروں خفیہ دستاویزات افشاء کرنے کی دھمکی۔ ہیکنگ کی اس غیر معمولی کارروائی نے مغرب اور امریکی سماج کو بھی ہلا کر رکھ دیا گیا مگراس بار یہ گروپ اجنبی نہیں رہا بلکہ سب جانتے تھے کہ وہی گروپ ہے جس نے اس سے قبل فرانسیسی ٹی وی کی خصوصی سروسز کو ہیک کیا تھا۔

برطانوی اخبار ’فائنینشل ٹائمز‘ نے سائبر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے 10 ماہرین سے ان کی آراء حاصل کیں، ان میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی ملٹری انٹیلی جنس ادارے’APT 28‘ نامی سائبر گروپ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد ’نیٹو‘ کی آن لائن سروسز پر سائبر حملوں میں 60 فی صد اضافہ ہوا، یورپی ہائی کمشن کےایک سینیر سیکیورٹی عہدیدار کےمطابق یورپی یونین کے اداروں پر سائبر حملوں میں 20 فی صد اضافہ ہوا ہے۔بیشتر حملوں کے ڈانڈے روس سے ملتے ہیں۔

ماضی میں روسی حکومت سائبر فورسز کی موجودگی سے انکاری رہی ہے مگر گذشتہ بدھ کو امریکی وزیر دفاع سیرگی شوگیو نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں اعتراف کیا کہ ماسکو سائبر فورس پر سالانہ 30 کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے اور دنیا بھر میں سائبر کارروائیوں میں حصہ لینے والی فورسز میں کام کرنے والے ہیکروں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔