.

کم جونگ نام زہرخورانی کے 20 منٹ بعد ہی چل بسے تھے!

شمالی کوریا کے صدر کے سوتیلے بھائی پر مہلک کیمیائی ایجنٹ سے حملہ کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کو دیا گیا زہر اتنا مہلک تھا کہ اس نے انھیں پندرہ سے بیس منٹ ہی میں ہلاک کردیا تھا۔

کم جونگ نام 13 فروری کو کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر زہریلے مواد کے حملے کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ملائشین پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کی منصوبہ بندی بڑے اچھے انداز میں کی گئی تھی اور دو عورتوں نے کم کے چہرے پر کوئی زہریلا مواد مل دیا تھا۔

پولیس نے جمعے کو یہ انکشاف کیا تھا کہ ممنوعہ کیمیائی مواد وی ایکس کم کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ملائشیا کے وزیر صحت سبرامینیم ستھاسیوام نے بتایا ہے کہ کم جونگ کو دیا گیا وی ایکس ایجنٹ اتنا تیز تھا کہ اس نے چند منٹ ہی میں اپنی علامتیں ظاہر کردی تھیں۔کم ائیرپورٹ کے کلینک ہی میں ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔انھیں وہاں سے ایک ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا جارہا تھا لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے تھے۔

سبرامینیم نے اتوار کے روز نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’’ ڈاکٹروں کو ابتدا ہی میں شُبہ تھا کہ کم کو مارنے کے لیے زہریلا کیمیائی مواد استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس کی علامتیں فوری طور پر ظاہر ہوئی تھیں۔وی ایکس کی صرف دس ملی گرام مقدار ہی انھیں ہلاک کرنے کے لیے کافی تھی لیکن میرا اندازہ ہے کہ کم کو دی گئی مقدار اس سے کہیں زیادہ تھا اور اس نے ان کے دل ،پھیپھڑوں اور تمام اعضاء پر فوری اثر کیا تھا‘‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کم پر حملے کے بعد ان کی موت میں کتنا وقت لگا ہوگا تو انھوں نے بتایا کہ ’’ میرے خیال میں زہر خورانی کے پندرہ سے بیس منٹ کے بعد ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی‘‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اعصابی ایجنٹ یقینی طور پر کسی جدید سرکاری لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا۔ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت اس کی تیاری پر پابندی عاید ہے جبکہ شمالی کوریا نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور وہ گذشتہ عشروں کے دوران میں کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے ایک پیچیدہ پروگرام پر عمل پیرا رہا ہے۔

آنجہانی کم جونگ نام سے ان کے سوتیلے بھائی اور شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کو کوئی سیاسی خطرہ لاحق نہیں تھا لیکن وہ شمالی کوریا کی شاہانہ آمریت میں ان کے حریف ہوسکتے تھے حالانکہ وہ گذشتہ کئی عشروں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔شمالی کوریا نے ان پر حملے میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔

ملائشیا نے بھی براہ راست شمالی کوریا کی حکومت کو اس واقعے پر مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے چار مردوں نے دو عورتوں کو کم پر حملے کے لیے زہریلا مواد مہیا کیا تھا۔یہ چاروں افراد اسی روز ملائشیا سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر ان دونوں عورتوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان میں ایک ویت نامی اور ایک انڈونیشیائی شہری ہے۔

کوالالمپور کے ایک پولیس افسرمحمد عبدالسامح نے بتایا ہے کہ انڈونیشی عورت ستی آسیہ نے ائیرپورٹ سے فرار کے دوران ایک ٹیکسی میں قے کی تھی لیکن اب وہ بہتر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان دونوں کے مزید ٹیسٹ درکار ہوں گے تاکہ انھیں زہریلے کیمیکل کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے تریاق دیا جاسکے۔