انڈونیشیا : بنڈونگ میں پولیس کی کارروائی میں مشتبہ حملہ آور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈونیشیا کی پولیس نے مغربی جاوا کے دارالحکومت بنڈونگ میں ایک عمارت کو آگ لگانے اور دھماکا کرنے والے ایک مشتبہ جنگجو کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

نیشنل پولیس کے سربراہ ٹیٹو کارنیویان نے کہا ہے کہ یہ مشتبہ شخص ایک جنگجو گروپ جماعۃ النشروط الدولہ (جے اے ڈی) کا رکن تھا۔اس جماعت کو امریکا نے جنوری میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

اس جنگجو گروپ کے ارکان کے شام میں داعش سے مل کر لڑنے والے ایک جنگجو بہرون نائم سے روابط تھے اوراس داعشی نے اس جنگجو گروپ کو انڈونیشیا میں متعدد حملوں پر اکسایا تھا۔

کارنیویان کا کہنا ہے کہ ’’حملہ آور جیلوں میں قید اپنے ساتھی جنگجوؤں کو رہا کرانا چاہتا تھا۔ وہ جے اے ڈی کا تو رکن تھا لیکن ہمیں ابھی تک یہ یقین نہیں ہے کہ اس کے بہرون نائم سے بھی روابط تھے یا نہیں‘‘۔

مغربی جاوا کے پولیس ترجمان یوسری یونس نے بتایا ہے کہ اس حملہ آور کو پیٹ میں گولی ماری گئی تھی اور وہ اسپتال لے جاتے ہوئے مر گیا ہے۔اس جنگجو نے پہلے بنڈونگ میں ایک کھلی جگہ پر دھماکا کیا تھا اور اس کے بعد ایک میونسپل عمارت میں گھس کر اس کو آگ لگا دی تھی۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور اس نے پہلے اس جنگجو سے خود کو حوالے کرنے اور ہتحیار ڈالنے کا کہا۔اس کے انکار پر پولیس اور اس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ٹی وی فوٹیج میں عمارت کی بالائی منزل سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے سنہ 2002ء میں بالی میں بم دھماکوں کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اس دوران میں انھوں نے سیکڑوں اسلامی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے یا گرفتار کر لیا ہے۔بالی میں بم دھماکوں میں 202 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔ ان بم دھماکوں کی جماعۃ الاسلامیہ نے ذمے داری قبول کی تھی۔

انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ برسوں کے دوران میں کارروائیوں میں اس جنگجو گروپ کے نیٹ ورک کو ختم کردیا ہے۔ تاہم اب داعش سے وابستہ جنگجوؤں کا ملک میں خطرہ موجود ہے اور وہ گاہے گاہے بم دھماکے کرتے رہتے ہیں۔جنوری 2016ء میں دارالحکومت جکارتہ میں بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں چار حملہ آور بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں