شامی فلم "وہائٹ ہیلمٹس" نے آسکر ایوارڈ جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رواں برس 2017 کے آسکر میں بہترین مختصر دستاویزی فلم کا ایوارڈWhite Helmets نامی فلم نے جیت لیا۔ شام میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں کام کرنے والی شہری دفاع کی تنظیم کو "وہائٹ ہیلمٹس" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مذکورہ فلم میں شہری دفاع کے تحت اپنی خدمات پیش کرنے والے رضاکاروں کی روزانہ کی زندگی کی تصویر پیش کی گئی ہے۔

فلم کے ہدایت کار Orlando von Einsiedel نے شامی شہری دفاع کے سربراہ رائد صالح کی جانب سے بیان کو پڑھا جو تقریب میں شرکت کے لیے امریکا آنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ " ہم بہت ممنون ہیں اس لیے کہ فلم میں ہمارے کام کو اجاگر کیا گیا۔ ہم اب تک 82 ہزار سے زیادہ شہریوں کو بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ میں تمام لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ شام اور دنیا کے دیگر علاقوں میں خون ریزی کو روکنے کے واسطے کام کریں"۔

اس سے قبل شامی شہری دفاع یعنی "وہائٹ ہیلمٹس" کے سربراہ رائد صالح نے ایک بیان میں کہا تھا کہ " کام کے دباؤ کے باعث میں سفر نہیں کروں گا ، بشار حکومت کی جانب سے دمشق ، درعا اور حمص میں بم باری کی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے۔ میرے ذمے دیگر بہت سی ذمے داریاں ہیں۔"

فلم کے کیمرہ کار خالد الخطیب نے جو اس وقت استنبول میں ہیں.. اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ "مجھے امریکا میں داخلے کا ویزا مل گیا تاہم میں کام کی زیادتی کی وجہ سے آسکر کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گا۔ ہماری اولین ترجیح اپنے عوام کی مدد ہے"۔

شام میں امدادی کارروائیوں میں مصروف "وہائٹ ہیلمٹس" نے ، جو اس وقت تقریبا 3 ہزار رضاکاروں پر مشتمل ہے 2013 میں کام شروع کیا تھا۔ شہری دفاع کی تنظیم کے یہ رضاکار اپنے سروں پر پہنے جانے والے سفید رنگ کے خود کے سبب 2014 سے "وہائٹ ہیلمٹس" کے نام سے معروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں