فِلپ بِلڈن امریکی بحریہ کے وزیر کے طور نامزدگی سے دست بردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ فِلپ بِلڈن امریکی بحریہ کے وزیر کے منصب کے لیے اپنی نامزدگی سے دست بردار ہو گئے ہیں۔ اس طرح وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں تیسری شخصیت ہیں جنہوں نے نامزدگی کے بعد اپنے تقرر سے پہلے ہی دست بردار ہو جانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ " یہ نجی مسائل اور بڑی دشواریوں کے سبب ایک ذاتی فیصلہ ہے.. اگرچہ مجھے اس اعلان سے مایوسی ہوئی ہے تاہم میں ان (فِلپ) کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ کسی دوسرے طریقے سے ہمارے عوام کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھیں گے"۔ میٹس کے مطابق وہ جلد ہی نئے نام کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ کئی روز سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ بلڈن کے کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار ہونے کے پیشِ نظر آیا وہ بحریہ کے وزیر کی ذمے داری پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بلڈن سے قبل دو مزید شخصیات ٹرمپ کی جانب سے اہم منصبوں پر نامزد کیے جانے کے بعد دست بردار ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے ونسِنٹ فیولا کو وزیر دفاع کے طور نامزد کیا تھا تاہم وہ کاروباری دنیا سے اپنے تعلق کے سبب اس نامزدگی سے دست بردار ہو گئے جس کے بعد جیمز میٹس کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے اینڈرو بوزدر کو وزیر انصاف کے منصب کے لیے نامزد کیا تھا تاہم بوزدر اپنی نجی زندگی کے بارے میں معلومات منظر عام پر آنے کے بعد اس نامزدگی سے دست بردار ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں