سعودی عرب اور انڈونیشیا داعش مخالف جنگ میں تعاون کریں گے

شاہ سلمان کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں میں 10 سمجھوتے طے پائیں گے :سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور انڈونیشیا کے درمیان شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورے کے موقع پر دہشت گردی سے نمٹنے سمیت دو طرفہ تعاون سے متعلق دس سمجھوتے طے پائیں گے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز جنوب ایشیائی ملکوں کے دورے پر ہیں اور وہ بدھ کو انڈونیشیا کے سرکاری دورے پر جکارتہ پہنچ رہے ہیں۔گذشتہ پانچ عشروں میں کسی سعودی شاہ کا دنیا کے بڑے مسلم اکثریتی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے اور ان کے ساتھ قریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد بھی آرہا ہے۔

جکارتہ میں سعودی سفیر اسامہ محمد عبداللہ الشعیبی نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ شاہ سلمان 12 مارچ تک انڈونیشیا میں قیام کریں گے اور اس دوران وہ مختصر دورے پر برونائی دارالسلام جائیں گے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت جزیرے بالی میں گزاریں گے۔

انھوں نے کہا :’’ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ انڈونیشیا کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ہم دہشت گردی (داعش) کے خلاف جنگ میں انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کریں گے۔ہم ان دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے ڈیٹا اور تجربے کا تبادلہ کرسکتے ہیں‘‘۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک انڈونیشیا میں مزید اسلامی اسکول کھولنا چاہتا ہے جہاں عربی زبان میں دینی تعلیم دی جائے گی۔اس کے علاوہ انڈونیشی طلبہ کے لیے وظائف میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ خادم الحرمین کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تیل اور گیس کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور سیاحت کے فروغ کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔سعودی آرامکو اور انڈونیشیا کی سرکاری توانائی فرم پرتامینا کے درمیان پانچ ارب ڈالرز کا سمجھوتا پہلے سے طے شدہ ہے۔اس کے تحت وسطی جاوا میں تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

انڈونیشی صدر جوکو ودودو نے قبل ازیں کہا تھا کہ شاہ سلمان کے دورے سے ملک میں پچیس ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں