ہتھیلی پر ایک جملے نے ایرانی دوشیزہ کو جیل پہنچا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ایک خاتون انسانی حقوق کارکن فرزانہ جلالی کو حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ فرزانہ جلالی کو مغربی شہر کرمان شاہ سے حراست میں لیا گیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ایرانی نیوز ویب پورٹل ’’بیدار زنی‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے کرد انسانی حقوق کارکن فرزانہ جلالی کو محض اس لیے حراست میں لیا ہے کہ اس نے اپنی ہتھیلی پر ایک جملے پر مبنی مطالبہ کیا تھا جس کے الفاظ ’خواتین پرتشدد بند کیا جائے‘۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی پولیس نے متعدد مرتبہ سماجی کارکن فرزانہ جلالی کو سیکیورٹی مراکز میں طلب کیا تھا۔

فارسی نیوز ویب پورٹل کے مطابق فرزانہ جلالی کو حال ہی میں ایران کی رجسٹریشن آفس سے اپنے دستاویزات مکمل کرنے کے لیے دفتر آنے کی ایک کال آئی تھی جس کے بعد وہ دفتر پہنچی تو وہاں موجود پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد سے وہ لا پتا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں