حوثی باغیوں نے اسٹیفن او برائن کو تعز جانے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی باغیوں نے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ اسٹیفن او برائن اور ان کے گاڑیوں کے قافلے کو تعز شہر کے محاصر زدہ علاقوں میں جانے سے روک دیا ہے۔

حوثی باغیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے گذشتہ دو سال سے تعز کا محاصرہ کررکھا ہے جبکہ شہر پر یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کا کنٹرول ہے۔ اسٹیفن او برائن اور ان کا قافلہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق منگل کے روز تعز جانا اور وہاں کی زمینی صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔

ذرائع نے العربیہ انگلش کو بتایا ہے کہ جب حوثی ملیشیا کی جانب سے عالمی ادارے کے انسانی امور کے سربراہ کو تعز میں داخل ہونے سے روکنے کی وجہ پوچھی گئی تو یہ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے معزز مہمان کے تحفظ کے پیش نظر ایسا کیا ہے۔

لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کو ان کے دورے کا پیشگی علم تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے شہر کے حالات خراب کرنے کے لیے منگل کو علی الصباح شہر کی جانب گولہ باری اور فائرنگ شروع کردی تھی تا کہ عوامی مزاحمتی فورسز اور صدر منصور ہادی کی حکومت کے تحت فوج بھی ان کی اس اشتعال انگیزی کا جواب دے۔

اسٹیفن او برائن نے عدن میں سوموار کی شب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عالمی برادری کو جنگ زدہ یمن کے مکینوں کی امداد کے لیے اپنے فنڈز میں اضافہ کرنا چاہیے اور تنازعے کے فریقوں کو متاثرہ افراد تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے رسائی دینی چاہیے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ بندر گاہوں تک بھی رسائی دی جائے تاکہ ضروری درآمدات یمن میں داخل ہوسکیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں