.

ابو سیاف گروپ کے ہاتھوں مارے جانے والے جرمن سیاح کے آخری لمحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن میں سخت گیر عسکریت پسند جماعت "ابو سیاف گروپ" نے اپنی حراست میں موجود جرمن سیاح کو 60 کروڑ ڈالر تاوان کی ادائیگی سے انکار پر اتوار کے روز موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پیر کے روز میڈیا میں آنے والی وڈیو میں چند شدت پسندوں کے نرغے میں موجود ایک ستر سالہ شخص کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ فلپائن میں حکام یہ جاننے کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جرمن سیاح " یورگین گوستاف کینٹنیر" کو حقیقت میں قتل کر دیا گیا ہے یا نہیں۔

شدت پسندوں کی ویب سائٹوں پر نظر رکھنے والے ایک گروپ کی جانب سے پیر کے روز جاری 43 منٹ دورانیے کی وڈیو میں یورگین کو زمین پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا۔ اس موقع پر جرمن سیاح نے کہا کہ "اب میں قتل کیا جانے والا ہوں" اور اس کے چند لمحے بعد ایک نقاب پوش شخص نے چاقو کے ذریعے یورگین کا سر کاٹ کر علاحدہ کر دیا۔

فلپائن میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ واضح ثبوت ملنے کے بعد ہی جرمن سیاح کی موت کی تصدیق کریں گے۔ اس حوالے سے جنرل "ريسٹیٹوٹو پاڈیلا" نے کہا کہ محض وڈیو دیکھ کر اس کا یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ابو سیاف گروپ کا تعاقب اور جماعت کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والے غیرملکی اور مقامی یرغمالیوں کو بچانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر کا کہنا ہے کہ جرمن ماہرین مذکورہ وڈیو کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر یہ حقیقی ثابت ہو گئی تو یہ بہت گہرا صدمہ ہوگا۔ ترجمان نے اغوا کاروں کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں البتہ یہ واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ تاوان کی شکل میں مدد کے لیے پیش رفت نہیں کرتی ہے۔

گزشتہ نومبر میں ابو سیاف گروپ نے جرمن مرد اور عورت کو اغوا کرنے اور ان میں عورت کو قتل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ خیال ہے کہ یہ عورت یورگین کی بیوی "سابين ميرز" تھی۔ بعد ازاں فلپائن کے جنوب میں ایک جزیرے پر لوگوں کو ایک خاتون کی لاش ملی جس کے قریب جرمنی کا پرچم موجود تھا۔ جرمن شہری یورگین اور اس کی ساتھی سابین کو 2008 میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

ابو سیاف گروپ پہلے ہی امریکا اور فلپائن کی جانب سے دہشت گرد تنظیم شمار کیے جانے کے سبب بلیک لسٹ ہے۔ گروپ نے اس ملک کے جنوب میں واقع جنگلات میں خیموں کے اندر 200 سے زیادہ افراد کو قید میں رکھا ہوا ہے جن میں اکثریت غیر ملکی یرغمالیوں کی ہے۔

گزشتہ برس بھی جماعت نے تاوان کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد دو کینیڈیئن یرغمالیوں کو گردن کاٹ کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔

فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتی نے فوج کو حکم دیا تھا کہ شدت پسندوں کا قلع قمع کر دیا جائے۔