.

معاشی بحران کے باوجود ایران کا فوجی بجٹ میں 128% اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کو درپیش معاشی مسائل اور مالی مشکلات کے باوجود فوجی بجٹ میں غیر معمولی اضافے نے خطے میں تہران کے فوجی عزائم ایک بار پھر بے نقاب کردیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق معاشی بحرانوں میں گھرے ایران نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران عمومی بجٹ میں مسلسل کمی کی جب کہ دفاعی اور فوجی بجٹ میں ایک سو اٹھائیس فی صد تک اضافہ کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومتی ترجمان محمد باقر نوبخت نے تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ رواں مالی سال کے دوران بھی ایران کو معاشی مشکلات کاسامنا ہے مگر اس کے باوجود دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صدر حسن روحانی کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک کے دفاعی بجٹ میں 86 فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔

چند ہفتے قبل ایک رپورٹ میں نئی مالی سال کے لیے ایران کے فوجی بجٹ کا تخمینہ 1 ارب 30 کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا۔ جب کہ کل بجٹ 11.6 ارب ڈالر کا بجٹ رواں ماہ 21 مارچ سے پیش کیا جائے گا۔

ایران میں بجٹ پلاننگ اینڈ آڈٹ کمیٹی کے ترجمان محمد مہدی مفتح نے خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کو بتایا کہ کمیٹی نے دفاعی پیداوار کے لیے حکومت نے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا بجٹ منظور کیا ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں صدر حسن روحانی نے نئے مالی سال کے بجٹ میں 13.9 فی صد اضافے کی منظوری دی تھی۔ اکیس مارچ 2017ء کو پیش سے جاری ہونے والا بجٹ 21 مارچ 2018ء تک کے لیے ہوگا جس میں دفاع کے لیے 39 فی صد اضافی رقم یعنی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر رکھی گئی ہے۔

اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دفاعی بجٹ میں چھ ارب ڈالر اضافی خرچ کرنے کی منظوری دی ہے۔ سنہ 2013ء میں ایران کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالر تھا۔ 2014ء میں 3.3 ارب ڈالر، 2015ء میں پانچ ارب ڈالر اور 2015ء کے آخر تک چھ ارب ڈالر اضافے تک جا پہنچا۔

اگرچہ پاسداران انقلاب کا عمومی بجٹ گذشتہ برس کی نسبت کم ہوا ہے مگر فوجی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔