.

حلیفوں کے تعاون سے داعش کو تباہ کر ڈالیں گے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں اپنے پہلے خطاب میں دونوں سیاسی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی عوام کے مفاد کے واسطے یک جہتی پیدا کریں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ " قومی افتخار کا ایک نیا احساس ہے جو ملک کی فضا میں چھایا ہوا ہے"۔

کانگریس میں امریکی صدر کے خطاب کو متوازن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ڈیموکریٹک رُکن بیرنی سینڈرز جیسے سخت ترین مخالف بھی ٹرمپ کے خطاب کے دوران بعض مواقع پر تالیاں بجانے پر مجبور ہو گئے۔

داعش اور خارجہ پالیسی

خارجہ پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "ہماری خارجہ پالیسی قوّتِ عمل کی حامل ہو گی۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ نیٹو کو سپورٹ کریں گے"۔ (اگرچہ ٹرمپ نے اس سے قبل نیٹو اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا)۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ " ہم اپنے حلیفوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تزویراتی کارروائیوں میں ایک متحرک کردار ادا کریں گے"۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکا نے ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ نئے شراکت دار پیدا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے امریکی صدر نے باور کرایا کہ " ہم اپنے حلیفوں کے ساتھ داعش تنظیم کو اس کے مقام پر تباہ کریں گے"۔

میکسیکو کی دیوار

ٹرمپ نے ارکان کانگریس کے سامنے عہد کیا کہ میکسیکو کی سرحد پر ایک بڑی دیوار کی تعمیر کا عنقریب شروع ہو جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق "ہم پر لازم ہے کہ پھر سے امن و امان اور سلامتی کے واسطے اقدامات کریں اور اپنی سرحد پر قانون کو نافذ کریں"۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے اس وعدے کے سبب واشنگٹن اور میکسیکو سِٹی کے درمیان سفارتی بحران پیدا ہو گیا۔

یہودی مراکز کو دھمکیوں کی مذمت

منگل کی شام کانگریس سے خطاب میں ٹرمپ نے شدت کے ساتھ "تخریب کاری" کی حالیہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی جن کا دائرہ کار یہودیوں کے قبرستانوں تک وسیع ہو گیا۔ انہوں نے پورے امریکا میں یہودی کمیونٹی کے مراکز کو درپیش "دھمکیوں" کی بھی مذمت کی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ " حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کے معاملے میں تو ہم ایک منقسم قوم ہو سکتے ہیں تاہم منافرت اور اس کی تمام صورتوں کی مذمت کے واسطے ہمارا ملک ایک یکساں موقف کا حامل ہے"۔ امریکی صدر نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ انفرا اسٹرکچر کے لیے 13 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے واسطے قانون سازی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے باور کرایا کہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے کانگریس پر زور دیا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے "طبی دیکھ بھال کے نظام" کو منسوخ یا تبدیل کیا جائے جو "اوباما کیئر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ " یقینا ہمارے دور میں تعلیم سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں اراکین پر زور دیتا ہوں کہ اس کے متعلق تجاویز تیار کریں"۔

عسکری اخراجات میں تاریخی اضافہ

ٹرمپ نے خطاب میں امریکی افواج اور سینئر جنگجوؤں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ " فوجی اہل کاروں کو جو کچھ مطلوب ہے وہ فراہم کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ جنگ میں شریک ہو کر اس میں کامران ہو سکیں"۔ ٹرمپ عسکری اخراجات میں تاریخی اضافے کو یقینی بنانے کے لیے کانگریس سے سپورٹ کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کانگریس کے ہال میں امریکی پولیس اور فوج کے اُن بعض اہل کاروں کے اہل خانہ بھی موجود تھے جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے۔ ٹرمپ نے مذکورہ اہل کاروں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا اور کہا کہ ان لوگوں نے ایک عظیم مقصد کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی دی۔