.

ہم نے مشرق وسطیٰ میں 60 کھرب ڈالر خرچ کر ڈالے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سابق امریکی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب امریکا کے اندر انفرا اسٹرکچر کمزور ہو رہا تھا اِن حکومتوں نے مشرق وسطی میں 60 کھرب ڈالر خرچ کر ڈالے۔

کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ " ملک کی تعمیرِ نو کے سلسلے میں میں کانگریس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے منصوبوں کی منظوری دی جائے جن سے امریکا کے انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں 10 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔ اس سلسلے میں سرکاری اور نجی دونوں سیکٹروں سے مالی رقوم حاصل کی جائیں گی اور اس طرح روزگار کے بھی لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے"۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے مشرق وسطی میں تقریبا 60 کھرب ڈالر خرچ کیے۔ اگر ہمارے سیاسی رہ نماؤں میں مذاکرات کی صلاحیت ہوتی تو اتنی رقم سے ہم اپنے ملک کی دو سے تین بار تعمیرِ نو کر سکتے تھے۔

ٹیکس نظام کی اصلاح

ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اس وعدے کو دُہرایا کہ وہ ٹیکس کے نظام میں "تاریخی نوعیت" کی اصلاح کریں گے جس سے امریکی کمپنیوں پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا اور وہ دیگر کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ ان اصلاحات کا فائدہ متوسط طبقے کو بھی پہنچے گا۔

ٹرمپ کے مطابق وہ غیرملکی درآمدات پر ٹیکس عائد کریں گے تاکہ امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ " اس وقت جب ہم امریکی مصنوعات برآمد کرتے ہیں تو بہت س ممالک میں ہمیں کسٹم ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جب کہ غیر ملکی کمپنیاں جب اپنی مصنوعات امریکا برآمد کرتی ہیں تو انہیں تقریبا کچھ نہیں ادا کرنا پڑتا"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ " میں شدت کے ساتھ آزاد تجارت پر یقین رکھتا ہوں مگر ساتھ ہی میرا ایمان منصفانہ تجارت پر بھی ہے"۔

امریکی صدر نے اس سے قبل امریکا ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرنے کا وعدہ کیا تھا اور بحر الکاہل کے راستے شراکت داری کے معاہدے سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔