.

فرانسیسی صدارتی امیدوار لی پین کو حاصل یورپی پارلیمان کا استثنا ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے قانون سازوں نے فرانس کی صدارتی امیدوار میرین لی پین کو حاصل پارلیمانی استثنیٰ ختم کردیا ہے۔یورپی پارلیمان نے یہ فیصلہ لی پین کی جانب سے داعش کی تشدد آمیز کارروائیوں کی تصاویر ٹویٹ کرنے کے ردعمل میں کیا ہے۔

لی پین یورپی پارلیمان میں اپنی جماعت نیشنل فرنٹ کی لیڈر ہیں۔انھوں نے دسمبر 2015ء میں داعش کی تین تصاویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی تھیں۔ان میں داعشی جنگجو تین افراد کے سرقلم کررہے تھے۔ان میں ایک تصویر امریکی صحافی جیمز فولی کی بھی تھی۔ فرانس میں لی پین کے خلاف اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

یورپی پارلیمان کی قانونی امور کی کمیٹی نے گذشتہ منگل کے روز فرانسیسی صدارتی امیدوار کو حاصل استثنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور جمعرات کو ارکان پارلیمان نے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

اس پارلیمانی استثنا کی ڈھال کی وجہ سے لی پین کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی تھی۔اب اس کو ختم کرکے پارلیمان نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ان پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے تشدد کی عکاس تصاویر شائع کی تھیں اور تشدد کی تشہیر کی مرتکب ہونے کے الزام میں انھیں تین سال تک قید اور 75 ہزار یورو (78 ہزار 930 ڈالرز) جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔