.

مصر: حسنی مبارک مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں برّی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک عدالت نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کو 2011ء کے اوائل میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں برّی کردیا ہے۔

حسنی مبارک ،ان کے وزیر داخلہ اور چھے سابق سکیورٹی مشیروں کو سنہ 2012ء میں قاہرہ کی ایک عدالت نے اسی مقدمے میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن دو سال کے بعد ایک اپیل عدالت نے یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی اور استغاثے کی کارروائی میں اسقام کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

قاہرہ کی عدالت نے جمعرات کو اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد انھیں مظاہرین کی ہلاکتوں سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں کیمرے لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

88 سالہ علیل حسنی مبارک اس وقت قاہرہ کے معدی فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہیں تین سال کی قید کاٹ رہے ہیں۔انھیں بدعنوانی کے ایک الگ مقدمے میں تین سال کی یہ قید کی سنائی تھی۔

یاد رہے کہ قبل ازیں مصر کی ایک اور عدالت نے معزول صدر کے خلاف سنہ 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ تحریک کے دوران قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں قریباً 850 مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ خارج کردیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف ملک کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپیل دائر کی تھی اور اپیل عدالت نے اس کو منظور کرتے ہوئے حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔تب سابق صدر نے عدالت میں اپنا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے اپنے خلاف عوامی بغاوت کے دوران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کا حکم نہیں دیا تھا۔