.

ایوانکا ٹرمپ اپنے والد پر کتنی اثر انداز ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس میں ایک سینئر اہل کار کا کہنا ہے کہ منگل کی شام کانگریس کے سامنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جس دھیمے لہجے کا اظہار کیا اُس میں امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا کا نمایاں کردار ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اہل کار نے واضح کیا کہ اتوار کے روز اسی سلسلے میں وہائٹ ہاؤس کے دفتر میں برین اسٹارمنگ یا رائے سازی کا ایک سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن میں ایوانکا نے شرکت کر کے ٹرمپ کی اس معاملے میں معاونت کی کہ وہ اُن اندیشوں پر قابو پانے کے لیے کس اسلوب کو اپنائیں جو ٹرمپ کی پالیسیوں کے سبب سامنے آ سکتے ہیں۔ سینئر اہل کار کے مطابق ٹرمپ جس پراُمید تصویر کے ساتھ نمودار ہوئے اُس کے پیچھے ان کی بیٹی کا ہاتھ ہے جو ٹرمپ کو مثبت رجحان اختیار کرنے پر زور دیتی ہے

کانگریس سے خطاب کے بعد ہونے والے سروے میں انکشاف ہوا کہ لوگوں کی اکثریت کے نزدیک ٹرمپ کو تناؤ کے نجات سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا گیا جس کے سبب اُن کے اندر نسبتا کم سختی نظر آئی۔ ٹرمپ نے اس مرتبہ زیادہ نرمی کے ساتھ خطاب کا آغاز کیا اور امریکی یک جہتی کا پُرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹک حریفوں اور میڈیا کی جانب سے اپنی توپوں کا رخ موڑا جن کو پہلے وہ کبھی نہیں بخشا کرتے تھے۔ اگرچہ ٹرمپ کے ذہن میں موجود نظریات اور افکار تو وہ ہی پرانے تھے تاہم مجموعی حیثیت سے انہوں نے اپنے افکار کا اظہار بڑے تحمل کے ساتھ کیا۔

برین اسٹارمنگ کے 10 روز

ذمے داران کے مطابق یہ خطاب وہائٹ ہاؤس میں 10 روز تک جاری رہنے والی انتھک برین اسٹارمنگ کا نتیجہ ہے جس میں ٹرمپ کے سینئر معاونین اور اُن کی بیٹی ایوانکا نے بھی شرکت کی۔ اس طرح صدر کی بیٹی نے پردے کے پیچھے رہ کر ناخُدا کا کردار ادا کیا۔ امریکی میڈیا کے نزدیک ٹرمپ نے خلاف معمول اس بار زیادہ معروضی ویژن پیش کیا اور امریکیوں کے مشترکہ مسائل کے قریب رہے۔

سماجی معاملات پر ایوانکا کا اثر

ڈونلڈ ٹرمپ کو سماجی معاملات پر روشنی ڈالنے کے لیے قائل کرنے میں ایوانکا کا کردار زیادہ واضح ہونا شروع ہو گیا ہے۔ امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ٹرمپ کے آخری خطاب نے اس سلسلے میں اُن کی بیٹی ایوانکا اور چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن کے اثر کو نمایاں کیا ہے۔

ٹرمپ کی 35 سالہ بیٹی ایوانکا کا دفتر وہائٹ ہاؤس کے مغربی ونگ میں ہے جہاں وہ غیر سرکاری مشیر کا کردار ادا کر رہی ہیں جب کہ ایوانکا کے شوہر جیرڈ کُشنر امریکی صدر کے سرکاری طور پرمشیر ہیں۔

ٹرمپ نے کانگریس میں اپنے خطاب کے دوران لفظ "عورت" کا 7 مرتبہ ذکر کیا جو اس تقریر کی تیاری میں ان کی بیٹی کے اثرا انداز ہونے کی جانب واضح اشارہ ہے۔ ٹرمپ نے دونوں جماعتوں کے ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا تاکہ بچوں کی دیکھ بھال کے پروگرام سے بآسانی استفادہ کیا جاسکے۔

تاریخی کردار

وہائٹ ہاؤس کے ذمے دار نے باور کرایا کہ کانگریس میں کیا جانے والا آخری خطاب مرکزی خیالات کے لحاظ سے تو ٹرمپ کی ذہنی کاوش تھی تاہم اس کو حتمی شکل دینے خیالات کو پُرجوش بنانے میں ایوانکا نے بڑی حد تک اپنے والد کی مدد کی۔

اس سلسلے میں منگل کی صبح ایک طویل سیشن ہوا جس کا مقصد خطاب کے متن کو آخری شکل دینا تھا۔ سیشن میں امریکی نائب صدر مائیک پینس ، چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن ، وہائٹ ہاؤس کے ملازمین کے سربراہ رینس بریبوس کے علاوہ صدارتی تقریریں لکھنے والے اسٹیفن ملر نے شرکت کی۔

ادھر وینڈر بیلٹ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدارتی امور کے شعبے کے ساتھ مختص مؤرخ تھومس ایلن شوارٹز کا کہنا ہے کہ جدید زمانے کی تاریخ میں امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا جیسی کوئی مثال ملنا مشکل ہے جہاں کسی صدر کی بیٹی اس حد تک اثر انداز ہو ، بالخصوص سماجی دیکھ بھال کے امور یا اُن معاملات میں جن کو ریپبلکنز کی جانب سے غالبا توجہ حاصل نہیں ہوتی ہے.. ایوانکا کا کردار بہت اہم ہے۔