.

ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان مبینہ ساز باز کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں انٹیلی جنس کمیٹی کے سب سے بڑے ڈیموکریٹک رکن نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی صدارتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم اور روس کے درمیان مبینہ ساز باز کے دعوؤں کی تحقیقات کرے گی۔

ڈیموکریٹک رکنِ پارلیمنٹ ایڈم شیف نے "MSNBC" ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " ہم انٹیلی جنس کمیٹی میں تحریری طور پر ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں کہ ہم ٹرمپ کی انتخابی روس کے درمیان گٹھ جوڑ کے دعوؤں کی تحقیقات کریں گے"۔

امریکی انٹیلی جنس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس نے سائبر حملوں کے ذریعے ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس تک پہنچنے میں مدد کی کوشش کی۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یکم دسمبر کو روسی سفارت کاروں کو امریکا سے واپس بھیج دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس صدارتی انتخابات سے قبل اپنے کسی بھی معاون اور ماسکو کے درمیان روابط کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ تنازع " ایک حیلہ ہے جس کی منصوبہ بندی ایک معاند اخباری گروپ نے کی"۔ ماسکو بھی ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔

کانگریس میں انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ اور ریپبلکن پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈیون نونیس نے پیر کے روز باور کرایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے ذمے داران نے ابھی تک کمیٹی کو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے اہل کاروں اور روسی انٹیلی جنس کے درمیان رابطوں کے ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ نونیس ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے قبل ان کی عبوری ٹیم کے رکن تھے۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کی چھان بین کرنے والی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نونیس اور شیف چھ صفحات پر مشتمل ایک خفیہ دستاویز پر متفق ہو گئے ہیں جو اُس ان دونوں شخصیات کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کا فریم ورک متعین کرتا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز "فوکس نیوز" سے گفتگو کرتے ہوئے نونیس کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس کمیٹی جمعرات کے روز امریکی انٹیلی جنس کے ذمے داران سے شواہد وصول کرے گی۔