.

صحافی کے معاملے پر ترکی اور جرمنی کے درمیان کشیدگی

برلن نے ایردوان کا جرمن صحافی پر جاسوسی کا الزام مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک جرمن صحافی کے معاملے میں جرمنی اور ترکی کی حکومتوں کے درمیان نئی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیر صحافی کو جرمنی کا جاسوس قرار دیا جس پر برلن حکومت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوآن کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز صدر ایردوآن نے ایک بیان میں نے الزام عاید کیا کہ جرمن حکومت دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک پولیس کے ہاں گرفتار ایک صحافی پر علاحدگی پسند کردوں کی حمایت کرنے اور جرمنی کے لیے جاسوسی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے کے جرم میں جرمن حکومت کے خلاف بھی مقدمہ چلنا چاہیے۔ انہوں نے جرمنی میں اپنی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی کی شدید مذمت کی جن میں ترک وزراء نے بھی شرکت کرنا تھی۔

ترک صدر کی طرف سے یہ ’آتشیں‘ بیان بازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب جرمنی میں صدر ایردوآن کی حمایت اور ترک دستور میں تبدیلی کے حوالے سے مظاہروں پر پابندی عاید کردی ہے۔ یہ مظاہرے 16 اپریل کو ترکی میں صدارتی نظام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی حمایت میں منعقد ہونا تھے۔

انہوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے ہمارے وزیرانصاف اور وزیر اقتصادیات کو یکجہتی جلوسوں میں شرکت اور خطاب سے روک کر غیر جمہوری طرز عمل اپنایا ہے۔

انہوں نے برلن حکومت پر علاحدگی پسند کردوں کو اپنے ہاں پناہ دینے اور انقرہ کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے کر دہشت گردی کے سہولت کار کا الزام عاید کیا۔ ایردوآن نے کہا کہ دہشت گردوں اور علاحدگی پسند کردوں کو اپنے ہاں پناہ اور سہولیات فراہم کرنے پر جرمن حکومت کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ انقرہ اور برلن کے درمیان اختلافات کی حدت میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب ترک پولیس نے جرمن اخبار ’دی ویلیت‘ کے نامہ نگار اور دہری شہریت کے حامل ’دنیز یوگل‘ دہشت گردی کی حمایت میں پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

دوسری جانب ترکی میں موجود جرمن سفیر نے صدر ایردوآن اور ترک حکومت کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے بھی صدر ایردوآن کی طرف سے الزام تراشی مسترد کردی ہے۔ جمعہ کے روز ایک بیان میں میرکل نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں اظہار رائے کی آزادی کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ ترکی میں صحافیوں کے حقوق کی پامالی پرہمیں افسوس ہے‘۔

برلن وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں صدر ایردوآن کا وہ الزام مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا جرمن اخبار کے نامہ نگار کو دہشت گردوں کا حامی اور جرمنی کا جاسوس قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس 15 جولائی کی شب ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی ناکام بغاوت کے بعد ترک حکومت نے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جس میں اب تک 43 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا اورایک لاکھ سے زاید افراد کو ملازمتوں سے نکالا گیا ہے۔